ضلع کوئٹہ کا جرگہ 17 ستمبر کو طلب، بدامنی، اغوا، لوٹ مار اور وسائل کی لوٹ مار پر متفقہ لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا: پشتونخوامیپ
جنوبی پشتونخوا میں زمینوں، پہاڑوں اور جنگلات کی غیر قانونی منتقلی عوام کا معاشی قتل ہے، ریاست کی رٹ اور سول اتھارٹی مذاق بن چکی ہے

تاجروں کے سامان کی ضبطی اور غیر قانونی چھاپے ناقابلِ برداشت ہیں، متفقہ آئین پر عملدرآمد کے بغیر بحرانوں کا حل ناممکن ہے
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ )پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر اور ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا کی زیر صدارت پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ضلع کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں 17 ستمبر کو ضلع کوئٹہ کے جرگے کے انعقاد اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی، صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی آفس سیکرٹری ملک عمر کاکڑ، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری حضرت عمر ایڈووکیٹ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز نعمت کاکڑ، بشیر کاکڑ ایڈووکیٹ، مرکزی کمیٹی کے اراکین سردار بہادر خان موسی خیل اور ولیم جان برکت نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ 11 تا 14 مارچ 2022 کو بنوں میں منعقدہ جرگے کے فیصلوں اور 30، 31 اگست اور یکم ستمبر 2026 کو کوئٹہ میں منعقدہ جنوبی پشتونخوا کے عوام اور پشتون قومی جرگے کے فیصلوں کی روشنی میں جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع میں ضلعی سطح پر جرگے منعقد کیے جائیں گے۔مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ ضلع کوئٹہ کا جرگہ 17 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا، جس کی تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ضلع کے تمام جرگہ ارکان کو دعوت نامے پہنچائے جائیں گے۔مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع میں جرگوں کے انعقاد کا مقصد عوام کو درپیش مسائل، موجودہ حالات اور قومی و اجتماعی امور پر مشاورت کے ذریعے آئندہ کا متفقہ لائحہ عمل طے کرنا ہے۔صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان نے کہا کہ جرگوں میں سیاسی و سماجی رہنماں، قبائلی عمائدین، دانشوروں، وکلا، نوجوانوں، خواتین، مزدوروں، کسانوں، تاجروں، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندے شرکت کریں گے۔اجلاس میں کہا گیا کہ جرگوں میں جنوبی پشتونخوا اور بالخصوص متعلقہ اضلاع میں جاری بدامنی، اغوا برائے تاوان، لوٹ مار، قتل و غارت گری، قبضہ گیری، شاہراہوں کی بندش، امن و امان، زمینوں، پہاڑوں اور جنگلات کی مبینہ غیر آئینی و غیر قانونی منتقلی یا الاٹمنٹ، تجارت کی بندش اور معاشی و سماجی صورتحال پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔پارٹی رہنماں نے کہا کہ جرگے عوامی آرا اور تجاویز کی روشنی میں ان مسائل کے حل کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل کو متفقہ طور پر مرتب کریں گے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات سے نجات دلانے کے لیے مثر اقدامات کیے جاسکیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماں نے کوئٹہ میں جنوبی پشتونخوا کے عوام اور پشتون قومی جرگے کے کامیاب انعقاد پر پارٹی کے عہدیداران اور کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مختلف کمیٹیوں میں دن رات محنت کرکے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔پارٹی رہنماں نے کہا کہ کوئٹہ میں لاکھوں افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایک جانب پینے کے صاف پانی، تعلیم، صحت، روزگار اور امن کی صورتحال تشویشناک ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی رٹ اور سول اتھارٹی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ تجارتی مراکز، مارکیٹوں اور دکانوں پر مختلف اداروں کے مبینہ غیر قانونی چھاپوں اور تاجروں کے سامان کی ضبطی سے کاروباری طبقہ مشکلات سے دوچار ہے۔رہنماں نے کہا کہ ملک میں غیر آئینی صورتحال نے سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق جب تک تمام ادارے ملک کے متفقہ آئین پر مکمل عملدرآمد نہیں کریں گے، ملکی بحرانوں سے نجات حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
