مہنگائی کے نئے اعداد و شمار جاری، پٹرول اور ڈیزل نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح 8.62 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ ایک ہفتے کے دوران قیمتوں میں مجموعی طور پر 0.23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ پٹرولیم مصنوعات سمیت روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر پٹرول کی قیمت میں 6.18 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5.49 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں ایل پی جی بھی 4.32 فیصد مہنگی ہوئی۔
ضروری اشیاء میں دال ماش کی قیمت 0.79 فیصد، واشنگ صابن 0.49 فیصد اور گندم کا آٹا 0.47 فیصد مہنگا ہوا۔ اس کے علاوہ مسور کی دال، سرسوں کے تیل، کوکنگ آئل، بناسپتی گھی اور دہی سمیت بعض دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب بعض اشیائے ضروریہ سستی ہونے سے شہریوں کو محدود ریلیف بھی ملا۔ ہفتہ وار بنیاد پر کیلے کی قیمت میں سب سے زیادہ 7.73 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ٹماٹر 5.24 فیصد، مرغی کا گوشت 4.22 فیصد، پیاز 3.72 فیصد اور آلو 1.88 فیصد سستے ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق 51 ضروری اشیاء میں سے 14 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 10 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ 27 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو پیاز کی قیمت میں سب سے نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 125.52 فیصد رہا۔ ایل پی جی کی قیمت سالانہ بنیاد پر 55.42 فیصد، ڈیزل 45.26 فیصد اور پٹرول 39.10 فیصد مہنگا ہوا۔
اسی عرصے میں آٹے کی قیمت میں 30.18 فیصد جبکہ بجلی کی قیمت میں 25.24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب آلو کی قیمت سالانہ بنیاد پر 35.21 فیصد، مرغی کا گوشت 24.30 فیصد اور چینی 20.88 فیصد سستی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق 50 کلوگرام یوریا کھاد کی اوسط قیمت 4,701 روپے جبکہ 50 کلوگرام سیمنٹ کی بوری کی اوسط قیمت 1,546 روپے ریکارڈ کی گئی۔
تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہفتہ وار مہنگائی بڑھانے والے نمایاں عوامل میں شامل رہا، جبکہ بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی نے مجموعی اضافے کو کسی حد تک محدود رکھا۔
