کسٹم چیک پوسٹوں پر آٹے اور گندم کی گاڑیوں کو روکنا اور بھاری رشوت وصول کرنا بدترین کرپشن ہے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

درخشاں، زیارت کراس، بلیلی اور کچلاک چیک پوسٹوں پر تاجروں اور غریب عوام کا جینا محال کر دیا گیا


اشیائے خوردونوش اتار کر عوام کو بلاجواز ہراساں کیا جا رہا ہے، ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں آٹے اور گندم کی ترسیل کرنے والی گاڑیوں کو مختلف کسٹم چیک پوسٹوں پر بلاجواز روکنے، ہراساں کرنے اور بھاری رقوم کی غیر قانونی وصولی کی شکایات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔پارٹی نے کہا ہے کہ درخشاں، زیارت کراس ، بلیلی، کچلاک، یارو اور دیگر متعلقہ چیک پوسٹوں پر آٹے اور گندم کی گاڑیوں سے غیر قانونی وصولیوں کی شکایات سامنے آنا نہ صرف افسوسناک بلکہ انتظامی اداروں کی کارکردگی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ اگر کسی سرکاری چیک پوسٹ پر قانون اور ضابطے سے ہٹ کر رقم وصول کی جا رہی ہے تو یہ براہِ راست اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔ پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ گندم اور آٹے کی ترسیل پہلے ہی مختلف مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں راستے میں گاڑیوں کو غیر ضروری طور پر روکنا اور اضافی رقوم وصول کرنا کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام عوام پر پڑتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش اور گھریلو سامان تک کو نہیں چھوڑا جا رہا، بلکہ بلیلی اور کچلاک چیک پوسٹوں پر کوئٹہ سے دکانداروں اور گھریلو افراد کی جانب سے لے جانے والے سامان تک اتار لیا جاتا ہے، جس کے باعث عوام کو بلاجواز اور غیر قانونی طور پر مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اگر متعلقہ حکام کو ان غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں بارہا تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے اور اس کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی تو یہ صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ شکایات کا بروقت ازالہ نہ ہونا نہ صرف متاثرہ کاروباری افراد کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے بلکہ عوامی اداروں پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ درخشاں، زیارت کراس اور دیگر کسٹم چیک پوسٹوں پر آٹے اور گندم کی گاڑیوں کو روکنے اور اشیائے خوردنوش کو اْتارنیاور غیر قانونی وصولیوں کے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں، شکایات اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔پارٹی نے مزید کہا کہ ریاستی اداروں کا فرض ہے کہ وہ تجارت اور کاروبار سے وابستہ افراد کو غیر ضروری رکاوٹوں اور غیر قانونی وصولیوں سے تحفظ فراہم کریں اور عوام کو بنیادی اشیائے ضروریہ مناسب قیمتوں پر دستیاب بنانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں۔

WhatsApp
Get Alert