قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان کے علاقے پنکئی سے اغوا ہونے والے 5 مزدور بازیاب،

خربوزے لوڈ کرنے آئے پنجاب کے مزدوروں کی رہائی کے لیے عمائدین نے اغوا کار گروہ سے رابطہ کیا، تمام افراد پولیس کے حوالے


گزشتہ ماہ بھی پنجاب سے آنے والے 6 افراد کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا، حالیہ واقعے پر پولیس کی تفتیش جاری
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان کے علاقے پنکئی سے ایک روز قبل اغوا ہونے والے پانچ مزدور بازیاب ہو گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق مقامی قبائلی عمائدین نے اغوا کار مسلح گروہ سے رابطہ کر کے مزدوروں کی رہائی کی درخواست کی، جس کے بعد پانچوں مزدوروں کو رہا کر دیا گیا۔قبائلی رہنما مزدوروں کو گلستان میں مقامی شہری ساجد کے گھر لے گئے جہاں سے انہیں انتظامیہ اور پولیس کے حوالے کیا گیا۔پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔پانچوں مزدور ایک گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی کے ملازمین ہیں اور خربوزے لوڈ کرنے کے لیے گلستان آئے تھے۔اس سے قبل منگل کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدوروں کو اغوا کیا گیا ہے۔قلعہ عبداللہ پولیس کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرغیر ملکی نشریاتی ادارے کوبتایا تھا کہ واقعہ کوئٹہ سے ملحقہ قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان کے علاقے گردی پنکئی میں اتوار کو پیش آیا۔پولیس عہدے دار کے مطابق پانچوں افراد دو گاڑیوں میں خربوزے لوڈ کرنے آئے تھے اس دوران موٹرسائیکلوں پر سوار دس سے زائد افراد آئے اور پانچوں افراد کو اپنے ساتھ زبردستی لے گئے۔مغویوں کی شناخت محمد آذان، محمد عدنان، محمد شہزاد ، انعام رضا اور باقر حسین کے نام سے ہوئی تھی۔ایس پی قلعہ عبداللہ خلیل بگٹی نے رابطہ کرنے پر بتایا تھا کہ مزدوروں کے اغوا کی اطلاع موصول ہوئی ہے تاہم ہم اب تک اس کی تصدیق نہیں کرسکتے۔گزشتہ ماہ بھی قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان سے انگور خریدنے کے لیے پنجاب سے آنے والے چھ افراد کو اغوا کیا تھا اور پھر پشین کے علاقے سرانان میں لاکر انہیں قتل کردیا تھا۔ اس واقعہ کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی تاہم اس واقعہ کی ذمہ داری اب تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔

WhatsApp
Get Alert