پاکستان میں 12 کروڑ لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں، لیکن حکمران عیاشی کریں! کیا یہ انصاف ہے؟ محمد زبیر عمر
وہ بیان کہاں ہے کہ یہ جہاز پنجاب ایئر کیلئے لیا ہے، کہاں گئی وہ پنجاب ایئر؟ سینئرصوبائی وزیر نے تکبر سے کہا کہ ہاں، جہاز لیا ہے! اب یہ کہا گیا، ہاں دورہ کیا ہے اور 3 کروڑ روپے لگے ہیں، سابق گورنر محمد زبیر

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)معاشی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان، محمد زبیر عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں 12 کروڑ لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں، لیکن حکمران عیاشی کریں! کیا یہ انصاف ہے؟ وہ بیان کہاں ہے جس میں کہا کہ یہ جہاز پنجاب ایئر کیلئے لیا ہے، کہاں گئی وہ پنجاب ایئر؟ سینئر صوبائی وزیر نے رعونت تکبر سے کہا کہ ہاں، جہاز لیا ہے! اب یہ کہا گیا، ہاں دورہ کیا ہے اور 3 کروڑ روپے لگے ہیں۔
انہوں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ بہترین اور مہنگے ہوٹلوں میں قیام کریں گے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ یہ وہ ملک ہے جہاں ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ کس لیے؟ کیونکہ پیسے نہیں ہیں۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے جسے وہ پورا نہیں کر رہی۔
یہ وہ ملک ہے جہاں 40 فیصد بچے غذائی قلت (Stunting) کا شکار ہیں۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں، بلکہ ان پر جھوٹ پہ جھوٹ بولا جاتا ہے۔
وہ بیان کہاں ہے؟ آپ سب کو یاد ہوگا اور آپ لوگوں کو بار بار یہ فوٹیج چلانی چاہیے اور سوال پوچھنا چاہیے کہ جب عظمیٰ بخاری نے فروری میں کہا تھا کہ یہ جہاز ‘پنجاب ایئر’ کے لیے لیا گیا ہے، تو کہاں گئی وہ پنجاب ایئر؟ سات مہینے گزرنے کے بعد بھی کاغذات پر پنجاب ایئر کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ اور پھر سینئر صوبائی وزیر نے پنجاب اسمبلی میں کھڑے ہو کر جس رعونت (تکبر) سے کہا کہ ‘ہاں، جہاز لیا ہے’، بالکل ویسے ہی جیسے اب بتایا گیا ہے کہ ‘ہاں، دورہ کیا ہے اور 3 کروڑ روپے لگے ہیں’۔
چاہے پاکستان میں 12 کروڑ لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو، لیکن ان کے حکمران اتنی عیاشی کریں گے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ آپ بنیادی صحت اور تعلیم کا کوئی بھی اعشاریہ (Indicator) اٹھا کر دیکھ لیں، ہم یا تو دنیا میں سب سے خراب سطح پر ہیں یا بدترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ کیا یہ انصاف ہے؟ وزیراعظم کی عیاشیاں دیکھیں، وزیراعلیٰ کی عیاشیاں دیکھیں اور ہمارے دیگر وزراء کی عیاشیاں دیکھیں۔
بار بار کہا جاتا ہے کہ یہ ایک غریب ملک ہے، لیکن ان کا طرزِ زندگی دیکھیں۔ ابھی انہوں نے کفایت شعاری (Austerity) کا اعلان کیا ہے، اور ابھی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ عوام کو دوبارہ قربانی دینی پڑے گی۔
ساڑھے چار سال پہلے جب یہ حکمران آئے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ قربانی دینی پڑے گی۔ انہوں نے بجلی کے نرخ دگنے سے بھی زیادہ، بلکہ تین گنا بڑھا دیے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں تین چار گنا اضافہ کر دیا۔ آپ نے تمام چیزیں مہنگی کر دیں۔ عوام نے یہ سوچ کر برداشت کیا کہ چلیں تھوڑے عرصے کے لیے ہم برداشت کر لیتے ہیں، سال ڈیڑھ سال کے بعد ہمارے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ وہ آسانیاں کہاں ہیں؟ ساڑھے چار سال کے بعد ہمارے حالات پہلے سے بھی بدتر ہیں۔ آج پاکستان میں غربت، ساڑھے چار سال پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں بے روزگاری کبھی اتنی زیادہ نہیں تھی۔ پچھلے چار، ساڑھے چار سالوں میں مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ جو چیز 18 ہزار روپے کی آتی تھی، اب اس کے لیے ہر شخص کو 60 ہزار روپے درکار ہیں۔ پیٹرول کی صورتحال دیکھ لیں۔ اور جب ہم یہاں پیٹرول کی بات کر رہے ہیں تو بین الاقوامی سطح پر تیل کے بحران کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ مجھے بتائیں، آج بھی میں نے ٹویٹ کیا ہے، بنگلہ دیش کی قیمتوں کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرول 55 فیصد زیادہ مہنگا ہے، آخر کیوں؟ ان کی معیشت یہ سب کیسے برداشت کرتی ہے اور ان کے حکمران کیسے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ قیمتوں کا بوجھ عوام تک نہ پہنچے؟
