پاکستان میں جو ہو رہا ہے دنیا اس سے نظریں نہیں چرا سکتی، قاسم خان کا گرفتاریوں پر ردعمل
جمہوریت کا دعویٰ کرنے کے باوجود لوگوں کو اغواء کرنا، خاندانوں کو ہراساں کرنا، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو پامال کرنا ایک فسطائی حکومت کا رویہ ہے؛ عمران خان کے بیٹے کی ایکس پوسٹ

لندن(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے اپنی پھوپھی علیمہ خان کی لاہور سے اچانک گرفتاری اور نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کے عمل کو ریاستی اغواء قرار دیتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی ہے اور عالمی برادری سے پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں قاسم خان نے لکھا کہ آج ان کی پھوپھی علیمہ خان کو لاہور میں پولیس نے بلاجواز اور غیر قانونی طور پر اغواء کرلیا ہے، ہمارے خاندان کو اس بات کا علم تک نہیں دیا جا رہا کہ انہیں حراست کے بعد کہاں منتقل کیا گیا ہے، جب کہ اہل خانہ اور وکلاء کا ان سے کسی قسم کا رابطہ بھی نہیں ہونے دیا جا رہا۔
Today, my aunt, Aleema Khan, has been abducted by police in Lahore. Our family has been told nothing about where she has been taken. Her family and lawyers cannot reach her.
This is the behaviour of a fascist government – abducting people, terrorising families and trampling…
— Kasim Khan (@Kasim_Khan_1999) September 20, 2026
حکومتی رویئے کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار کا راگ الاپنے والی حکومت دراصل ایک فاشسٹ حکومت جیسا سلوک کر رہی ہے جہاں لوگوں کو راستوں سے اغواء کیا جا رہا ہے، خاندانوں کو خوف و ہراس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قانون کی حکمرانی و انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، پہلے انہوں نے میرے والد عمران خان کو جیل میں ڈالا اور اب وہ ان کے خاندان اور رشتہ داروں کے پیچھے پڑگئے ہیں۔
قاسم خان نے پرزور مطالبہ کیا کہ ان کے خاندان اور قانونی ٹیم کو علیمہ خان تک فوری اور بلا تعطل رسائی دی جائے، انہیں کہاں رکھا گیا ہے اس کا مکمل افشاء کیا جائے اور انہیں فوراً رہا کیا جائے، اس کے علاوہ اپنے بیان کے اختتام پر عمران خان کے صاحبزادے نے بین الاقوامی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری پاکستان میں ہونے والے اس بدترین جبر اور ناانصافی سے مزید آنکھیں بند نہیں رکھ سکتی۔
