چھوٹے صوبوں کی تجویز ملک سے سیاست اور سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش ہے، مطیع اللہ جان

پاکستان کی نوجوان نسل میں سیاست، سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کیخلاف نفرت کے بیج بونے کی یہ رسم پرانی ہے، مالی مفاد کی خاطر میڈیا مالکان بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں؛ سینئر صحافی و تجزیہ کار کی رائے


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)معروف صحافی اور اینکر پرسن مطیع اللہ جان نے نوجوانوں کو سیاست سے دوری اختیار کرنے کے مشورے پر مبنی ایک ڈرامہ کلپ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل میں سیاست، جمہوریت اور آئین سے نفرت کے بیج بونے کا سلسہ پرانا ہے، عاشر عظیم کی فلم ’مالک‘ اسی جمہوریت دشمن اور ماورائے عدالت اقدامات کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والے بیانیے کی بہترین مثال تھی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تجزیے میں مطیع اللہ جان نے لکھا کہ ملک میں سیاست اور سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کے لیے چھوٹے صوبوں یا خود مختار انتظامی یونٹس کی تجاویز لائی جا رہی ہیں، آئی ایس پی آر کے تعاون سے بنی اور بعد میں پابندی کا شکار ہونے والی عاشر عظیم کی فلم ’مالک‘ مکمل طور پر سیاست دانوں، جمہوریت اور عدلیہ مخالف بیانیے پر مبنی تھی، جس میں ماورائے عدالت قتل کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو ہیرو بنا کر دکھایا گیا۔


انہوں نے فلم کی کہانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ فلم میں سندھ کے وزیراعلیٰ کے منفی کردار، عدلیہ کی ناکامی کے تاثر اور ایک ریٹائرڈ فوجی اہلکار کے ذریعے نجی عدالت لگا کر انصاف فراہم کرنے جیسے مناظر شامل کیے گئے، جن سے آئین و قانون سے بغاوت کو فروغ ملا، عاشر عظیم اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بن کر یہ فلم بنانے کے بعد خود ملک سے فرار ہو گئے، اس فلم پر پہلے سندھ حکومت اور بعد میں وفاقی حکومت نے پابندی عائد کی تھی۔
سینیئر صحافی نے کہا کہ اب اس پرانے سلسلے میں میڈیا کے ادارے اور مالکان بھی شامل ہو چکے ہیں جو مالی مفادات کی خاطر نوجوان نسل کو جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق سے متنفر کر رہے ہیں، ماضی میں جب میں نے وحید مراد کے ساتھ فلم مالک دیکھنے کے بعد ’وقت ٹی وی‘ پر فلم ’مالک‘ کے موضوع پر ایک شو کرنا چاہا تو لاہور سے میرا لائیو پروگرام روک دیا گیا تھا کیونکہ عاشر عظیم عین موقع پر مکر گئے تھے اور ن لیگ کے سنسر بورڈ کا رکن بھی بھاگ کھڑا ہوا تھا۔

WhatsApp
Get Alert