عمران خان کی بہنوں کو اغواء کرنے سے کیا ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ یہ ان کی بھول ہے ہم مزید زورشور سے آئیں گے، سہیل آفریدی


پشاور(قدرت روزنامہ)وزیراعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بہنوں کو اغواء کرنے سے کیا ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ یہ ان کی بھول ہے ہم مزید زورشور سے آئیں گے، 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، جب قانونی راستے پر ہماری شنوائی نہیں ہورہی تو پھر احتجاج کے علاوہ ہمارے پاس کون سا راستہ بچتا ہے؟ انہوں نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب نواز شریف بیمار ہوتا ہے تو یہی عدالتیں کہتی ہیں اگر اس کو کچھ ہوگیا تو حکومت ذمہ دار ہوگی جب واپس آتے ہیں تو عدالتیں ائیرپورٹ پر پہنچ جاتی ہیں حالانکہ سزا یافتہ مجرم ہوتے ہیں قوم کا پیسہ لوٹ کر گئے ہوتے ہیں دوسری جانب ایک سیاسی جماعت کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک ہو ریاستی ادارے اس کو اون نہ کرتے ہوں ، ان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہو، قانون کے مطابق ان کو ڈیل نہ کیا جاتا ہو تو وہ احتجاج کی طرف ہی جائے گی۔

اور اس احتجاج کی آئین و قانون اجازت دیتا ہے اگر اس سے روکنا ہے تو آئین سے وہ شِق نکال دیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ستائیس ستمبر کو ہم پورے زور وشور سے آئیں گے، عمران خان کی بہنوں اور خاندان کے اغواء سے اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا، اگر شکیل خان پر سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشتگرد حملہ کریں گے، صوبائی وزیر شکور خان کی گاڑی پر دہشتگرد حملہ کرکے اس کو اغواء کریں گے اور سوچتے ہیں کہ تحریک ناکام ہوگی تو ایسا نہیں ہوگا اس سے تحریک میں مزید جان آئے گی۔
نو اپریل کو شروع ہونے والا ظلم و جبر آج بھی جاری ہے، معصوم ضلِ شاہ سے لے کر بزرگ اعجاز ستی تک ہمارے سینکڑوں کارکن شہید کیے جاچکے، چھبیس نومبر کو جب گولیاں چلائی گئیں اس کے بعد سے آج تک ہم نے تمام قانونی راستے اپنائے لیکن شنوائی نہ ہوئی، عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات ردی کی ٹوکری میں ڈالے گئے، سپریم کورٹ کے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کل عمران خان کی تینوں بہنوں کو بشمول ان کے خاندان کے افراد معصوم بچوں سمیت اغواء کیا گیا۔ جب کسی قانونی راستے پر ہماری شنوائی نہیں ہورہی تو پھر احتجاج کے علاوہ ہمارے پاس کون سا راستہ بچتا ہے؟ پرامن احتجاج کا حق ہمیں آئین و قانون دیتا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ تحریک انصاف ایک جمہوری قوت ہے جس کی جڑیں عوام میں ہیں، ہم پرامن تھے ہم پرامن رہے اور ہمیشہ پرامن رہینگے۔
اس وقت عمران خان جو اس ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں اس سمیت اس کا پورا خاندان بغیر کسی جرم جیل میں ہے۔ ہمیں چار سالوں میں ایک پرامن لانگ مارچ نہیں کرنے دیا گیا ہماری حکومت نے انہوں نے لانگ مارچ کیے حکومت نے سہولت کاری کی۔ ہماری عدالتوں میں شنوائی نہیں ہورہی، پارلیمینٹ میں سینیٹ میں بات نہیں سنی جارہی، ہم مانگ کیا رہے؟ صرف انصاف لیکن کہیں سے نہیں مل رہا تو ہم نے اپنے حقوق کے لیے لانگ مارچ کی کال دی اس میں کیا غیرقانونی ہے؟ ہمارے پندرہ سو ورکرز، پانچ ایم این اے، ایم پی اے ایک منسٹر اغواء ہو چکا۔

WhatsApp
Get Alert