احتجاج سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں حکومتی بدحواسی کا ثبوت ہیں: پشتونخوامیپ

عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ بی بی کی گرفتاری قابل مذمت، عوام کے جمہوری مینڈیٹ کا مذاق اڑایا گیا: مرکزی پریس ریلیز


مسلط حکومت کا خاتمہ اور نئے شفاف انتخابات ناگزیر ہیں، زبردستی کی مہم جوئی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں ملک کے اندر آئینی، سیاسی اور جمہوری احتجاج کی کال سے 10 دن قبل شروع ہونے والی سیاسی گرفتاریوں، چھاپوں اور خوف و ہراس پھیلانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ہتھکنڈے دراصل ملک پر مسلط ٹولے کی بداعمالیوں اور ریاست و حکومت کے آئین، سیاست اور جمہوریت مخالف کردار کے کھلے مظہر ہیں۔ پشتونخوامیپ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت پی ٹی آئی بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ بی بی کی گرفتاری پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے سمجھ سے بالاتر قرار دیا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست کی بنیاد عوام اور ان کے سیاسی و جمہوری مینڈیٹ پر ہوتی ہے، لیکن گزشتہ نام نہاد الیکشن میں عوامی مینڈیٹ کا جس طرح مذاق اڑایا گیا، اس سے سیاست، جمہوریت، پارلیمنٹ اور خصوصاً سیاسی پارٹیوں کی بے توقیری ہوئی۔ دوسری جانب کرپشن، لوٹ مار، رشوت، کمیشن اور چوری ڈکیتی جیسی منفی سماجی اقدار کو مثبت بنا کر پیش کرنے سے بین الاقوامی سطح پر ملک کا وقار پامال ہو کر رہ گیا ہے۔
پشتونخوامیپ نے کہا ہے کہ ملک کی واضح اکثریت سے الیکشن جیتنے والی پارٹی اور اس کے بانی کو جیل میں رکھنا عالمی انسانی حقوق اور ملکی آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ ملک کو موجودہ ہمہ جہت بحرانوں اور خطے کے حالات سے نکالنے کے لیے فوری طور پر آئین اور جمہوریت کی بحالی، مسلط کردہ غیر منتخب و غیر نمائندہ حکومت کی برطرفی اور نئے سرے سے شفاف انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے، جس سے عالمی سطح پر ملکی وقار بحال ہو سکے گا۔ بیان کے آخر میں خبردار کیا گیا ہے کہ زبردستی کی کوئی بھی مہم جوئی مستقبل میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جس سے اجتناب ضروری ہے، کیونکہ پرامن جمہوری احتجاج ملک کے ہر فرد کا آئینی اور بنیادی حق ہے۔

WhatsApp
Get Alert