تم ڈاکٹر بنا کر کیا کروگے،عالم بن جائو،وہ جملہ جس نے مولانا طارق جمیل کی زندگی کا رخ بدل دیا


لاہور (قدرت روزنامہ)مولانا طارق جمیل نے ایک گفتگو میں اپنے والد کی خواہش اور اپنی زندگی کا اہم موڑ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ ڈاکٹر بنیں کیونکہ اس زمانے میں ڈاکٹر کے پیشے کو عزت اور وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
مولانا طارق جمیل کے مطابق ان کے والد دیہاتی مزاج کے سادہ انسان تھے اور اکثر کہتے تھے کہ ڈاکٹر کے پیشے میں ’’بڑی عزت اور بڑا پیسہ‘‘ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیرِ تعلیم تھے، جو اب یونیورسٹی بن چکا ہے۔ اسی دوران ایک دوست انہیں تین دن کے لیے اپنے ساتھ تبلیغ پر لے گیا، لیکن یہ مختصر دورہ تقریباً چار ماہ تک جاری رہا۔
مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ اسی دوران ایک نوجوان نے ان سے کہا کہ ’’تم ڈاکٹر بن کر کیا کرو گے، عالم بن جاؤ۔‘‘ ان کے بقول اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کی بات ان کے دل میں ڈال دی اور وہ دینی تعلیم کی طرف مائل ہوگئے۔
دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب وہ گھر واپس آئے اور اپنے والد کو اس فیصلے سے آگاہ کیا تو 23 نومبر 1972 کی صبح ان کے والد جب گھر آئے تو شدید غصے میں آگئے اور کہا: ’’اگر مولوی بننا ہے تو گھر سے نکل جاؤ۔‘‘

WhatsApp
Get Alert