عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے اور جمعیت علمائے اسلام کو سیاسی عمل سے باہر رکھنے کی بھاری قیمت بلوچستان ادا کر رہا ہے: مولانا عبدالواسع

مصنوعی سیاسی بندوبست اور ناقص حکمرانی عوام کے دیرینہ مسائل کا حل نہیں، جے یو آئی اقتدار نہیں حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے


قائد جمعیت کی کال پر منظم سیاسی تحریک بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کی حقیقی آواز بن چکی ہے، کارکنان لائحہ عمل کے لیے تیار رہیں
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ صوبے کی سیاسی جدوجہد، عوامی حقوق اور جمہوری مزاحمت کی مضبوط اور توانا آواز ہے، جس نے ہر دور میں بلوچستان کے عوام کے حقوق، وسائل اور سیاسی اختیار کا مقدمہ پوری قوت سے لڑا ہے۔ جمعیت علمائ￿ اسلام کو مسلسل سیاسی عمل سے باہر رکھنے، اس کے عوامی مینڈیٹ کو محدود کرنے اور حقیقی عوامی نمائندگی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا نتیجہ آج پورا بلوچستان بدامنی، سیاسی بے یقینی، معاشی جمود، انتظامی بحران اور بڑھتی ہوئی محرومیوں کی صورت میں بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرکے تشکیل دیا جانے والا کوئی بھی سیاسی بندوبست دیرپا استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتا، مصنوعی سیاسی بندوبست عوام کے حقیقی مسائل کا حل نہیں۔ ماضی کی حکومتوں کی ناقص حکمرانی، کمزور ترجیحات اور غیر مؤثر پالیسیوں نے صوبے کے مسائل کم کرنے کے بجائے انہیں مزید گمبھیر بنایا؛ امن و امان، تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر، معیشت اور بنیادی سہولیات کے شعبے آج بھی عوام کی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اقتدار کی کرسی کی نہیں بلکہ عوام کے حق، آئین کی بالادستی، جمہوری تسلسل، صوبائی خودمختاری اور بلوچستان کے اجتماعی مفادات کی سیاست کرتی ہے۔ عوام کے مسائل کو ایوانوں سے سڑکوں تک اجاگر کرنا، صوبے کے وسائل پر اس کے عوام کے آئینی حق کا تحفظ کرنا اور محرومیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر سیاسی جدوجہد کرنا جمعیت علمائ￿ اسلام کے منشور کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی کال پر ملک بھر میں عوامی اجتماعات اور سیاسی سرگرمیوں نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ جمعیت علماء اسلام منظم عوامی قوت اور مضبوط سیاسی تنظیم رکھتی ہے، جبکہ عوامی اسمبلیوں میں بھرپور شرکت اس امر کا اظہار ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کی سیاسی آواز کو کسی مصنوعی بندوبست کے ذریعے خاموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مینڈیٹ پر شب خون، عوامی رائے کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش اور سیاسی انجینئرنگ جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے مترادف ہے؛ عوام کے ووٹ اور مینڈیٹ کا احترام ہی سیاسی استحکام کی بنیاد ہے۔ سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کا ہر کارکن قائد جمعیت کے آئندہ لائحہ عمل کے لیے پوری طرح تیار رہے، قائد جمعیت نے حالیہ سیاسی تحریک کے آغاز کا اعزاز بلوچستان کو دیا ہے؛ ان شائ￿ اللہ اہلِ بلوچستان اپنے آئینی، جمہوری اور سیاسی حقوق کے تحفظ کی اس جدوجہد میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور بلوچستان کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے فیصلہ سازی کے مرکز تک پہنچائیں گے۔

WhatsApp
Get Alert