زونگ نے کنیکٹ ہیئر کے تعاون سے اپنے کسٹمر سروس سینٹرز میں اشاروں کی زبان کی سہولت متعارف کرادی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان میں ٹیکنالوجی سروسزکے معروف ادارے ،زونگ نے کنیکٹ ہئیر کے ساتھ شراکت داری سے اس کی ملکیتی ٹیکنالوجی SILA کے ذریعے اپنے کسٹمر سروس سینٹرز میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والی اشاروں کی زبان کی سہولت متعارف کرادی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی پاکستان سائن لینگویج سپورٹ کو براہِ راست صارفین کے تجربے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
یہ اقدام 23 ستمبر 2026 کو انٹرنیشنل ڈے آف سائن لینگویجز کے موقع پر شروع کیا گیا۔ یہ اقدام زونگ کے ایک کنیکٹیویٹی فراہم کرنے والے ادارے سے ٹیکنالوجی سروسز انٹرپرائز اور ڈیجیٹل سہولت کار کے طور پر ارتقا کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اس امر کا مظاہرہ بھی ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدت کس طرح کنیکٹیویٹی سے آگے بڑھ کر رکاوٹیں دور، سروسز تک رسائی کو بہتر اور زیادہ لوگوں کو ڈیجیٹل معیشت میں بامعنی طور پر شرکت کے قابل بنا سکتی ہے، جس سے زونگ کے ایک زیادہ جامع اور قابلِ رسائی ڈیجیٹل پاکستان کے عزم کو تقویت ملتی ہے۔

اے آئی اور پاکستان سائن لینگویج پر مبنی ٹیکنالوجی سے لیس SILA اشاروں کی زبان استعمال کرنے والے صارفین کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے کسٹمر سروس سینٹرز میں زونگ کی زیادہ اور بہتر سروسزحاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ نظام اشاروں کی زبان میں بروقت کمیونیکیشن کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ اضافی معاونت، سیاق و سباق یا ضرورت پڑنے پر تربیت یافتہ ترجمانوں تک رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔
اشاروں کی زبان استعمال کرنے والے سماعت سے محروم یا کم سماعت والے صارفین کے لیے روزمرہ سروسز جیسا کہ سم سے متعلق امور، بلنگ کے سوالات اور اکاؤنٹ سے متعلق معاونت، اکثر کسی ترجمان یا خاندان کے فرد کی مدد کی ضرورت کا باعث بن سکتی ہیں۔ کسٹمر سروس میں اشاروں کی زبان کی سہولت شامل کرکے زونگ اس دیرینہ رکاوٹ سے نمٹ رہا ہے اور دوسروں پر انحصار کم کر رہا ہے جبکہ صارفین کے لیے زیادہ خودمختار، باوقار اور جامع تجربہ فراہم کر رہا ہے۔

یہ اقدام کنیکٹیویٹی فراہم کرنے سے بامعنی ڈیجیٹل شرکت کو ممکن بنانے کی جانب جاری منتقلی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت، قابلِ رسائی ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے ذریعے زونگ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ ڈیجیٹل خدمات کو ابتدا ہی سے صارفین کی وسیع تر تعداد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کس طرح ڈیزائن کیا جاسکتا ہے۔
افتتاحی تقریب زونگ کے اسلام آباد کسٹمر سروس سینٹر میں منعقد ہوئی، جس میں زونگ کی انتظامیہ، کنیکٹ ہیئر اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور جی ایس ایم اے کے حکام نے شرکت کی۔ شرکاء میںوزارت آئی ٹی کے ممبر ٹیلی کام محمد جہانزیب رحیم،پی ٹی اے کی ڈائریکٹر کوآرڈینیشن ربیعہ پرویز، پی ٹی اے کی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ملاحت عبید اوراے پی اے سی ،جی ایس ایم اے کے انوویشن فنڈ منیجر زوہیب جاوید شامل تھے۔
زونگ کی ترجمان و ہیڈ آف اسٹریٹیجی نبیلہ یزدانی نے کہاکہ،”حقیقی ڈیجیٹل پاکستان وہ ہے جہاں ٹیکنالوجی ہر فرد کو شرکت کے قابل بنائے۔ زونگ میں ہمارا یقین ہے کہ جدت طرازی کو کنیکٹیویٹی سے آگے بڑھ کر سب کے لیے بامعنی رسائی اور تجربات پیدا کرنے چاہئیں۔ کنیکٹ ہئیر کے ساتھ اس شراکت داری کے ذریعے ہم ٹیکنالوجی پر مبنی شمولیت کو براہِ راست صارفین کے تجربے کا حصہ بنا رہے ہیں تاکہ قابل رسائی سہولت ہماری سروسز کے ڈیزائن اور فراہمی کا لازمی جزو بن جائے۔ SILA ٹیکنالوجی سروسز انٹرپرائز کے طور پر ہمارے سفر میں ایک اہم قدم ہے جو رکاوٹیں دور کرنے، شرکت کے دائرے کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ ایک جامع اورمستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل پاکستان کی تشکیل میں مدد کے لیے جدت طرازی سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔”

کنیکٹ ہئیر کی شریک بانی و سی ای او عظیمہ دھن جی نے کہا کہ،” SILA کے ذریعیسماعت سے محروم صارفین ان مقامات پر کسی پر انحصار کیے بغیر اشاروں کی زبان کے ذریعے آزادانہ طور پر سروسزلے سکتے ہیں۔ میں اس کی اہمیت کو زیادہ محسوس کرتی ہوں کیونکہ میں نے خود سماعت سے محروم والدین کے ساتھ پرورش پائی۔ کنیکٹ ہئیر ملک میں اشاروں کی زبان سے متعلق ٹیکنالوجیز کے فروغ میں پیش پیش رہا ہے اور زونگ کے ساتھ ہماری شراکت داری اس اہمیت کواجاگر کرتی ہے جو ہمیں ایک ایسے پاکستان کے قریب لے جا رہی ہے جہاں معذوری رکھنے والے افراد کو زیادہ جامع انداز میں شامل کیا جائے۔”
مصنوعی ذہانت سے چلنے والی اشاروں کی زبان کی سہولت کا آغاز ایک وسیع تر قابلِ رسائی روڈ میپ کے پہلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ زونگ کا منصوبہ ہے کہ وہ بتدریج اپنے ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں اشاروں کی زبان کی سہولت کو وسعت دے، تاکہ صارفین زیادہ جامع ڈیجیٹل تجربات کے ذریعے وسیع پیمانے پر خدمات تک رسائی حاصل کرسکیں۔یہ اقدام زونگ کے وسیع تر ٹیکنالوجی سروسز کے وژن کی بھی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت وہ اپنے نیٹ ورک، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی شراکت داریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے حل تیار کرنا چاہتا ہے جو صارفین اور معاشرے کی حقیقی ضروریات کو پورا کرسکیں۔

WhatsApp
Get Alert