اگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں رُکتا تو خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی نفاذ کے 70 فیصد امکانات موجود ہیں، عاصمہ شیرازی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ اس بار ڈرایا ، دھمکایا نہیں جائے گا، اگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں رکتا تو حکومت پاکستان فوری ایمرجنسی کا نفاذ کرسکتی ہے۔ اپنے وی لاگ میں انہوں نے بتایا کہ شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے آرٹیکل232 کی تیاری کی گئی ہے، آرٹیکل 232 ایمرجنسی سے متعلق ہے، ایمرجنسی کے دو پہلو ہیں، اگر کوئی بیرونی جارحیت ہوتی ہے یا اندرونی خلفشار ہوتا ہے، تو صوبے کے اندر ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے، جس کیلئے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر ایسا نہیں ہوتا تو صدر مملکت کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرسکتے ہیں،18ویں ترمیم کے بعد یہ آرٹیکل 232 کہتا ہے ۔
خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی لگنے کے امکانات 70 فیصد سے زیادہ ہیں ایمرجنسی لگانے کے لیے دو شرائط ہیں ایک بیرونی جارحیت اور دوسرا اندرونی خلفشار دونوں شرائط پوری ہیں اندورنی خلفشار والی شرط لانگ مارچ کی صورت میں پوری ہو جائے گی ! عاصمہ شیرازی ۔۔ pic.twitter.com/4hIq65N0Gj
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) September 24, 2026
ایمرجنسی لگانے کیلئے دو شرائط ہیں، ایک بیرونی جارحیت اور دوسری اندرونی خلفشار، بیرونی جارحیت والی شرط خیبرپختونخواہ میں پوری ہوچکی ہے۔ دوسری شرط اندرونی خلفشار کی ہے وہ ابھی لانگ مارچ، دہشتگرد تنظیموں اور امن وامان کی صورت میں موجود ہے۔
یہ میں آپ کو خبر بتا رہی ہوں، یہ میری کوئی خواہش نہیں ہے، آئین کے اندر یہ ایک سب سے ناپسندیدہ عمل بتایا گیا ہے۔ کہ کن کن صورتوں میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگ سکتا ہے۔ اگر صوبائی اسمبلی ایمرجنسی کی قرارداد منظور نہیں کرتی تو صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی نفاذ کے بعد دس دن کے اندر مجلس شوریٰ الگ الگ ایوانوں سے قرارداد منظور کرسکتی ہے۔ اس بار ڈرایا ، دھمکایا نہیں جائے گا، اگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں رکتا تو حکومت پاکستان فوری ایمرجنسی کا نفاذ کرسکتی ہے۔
