خیبر پختونخوا حکومت کا جلد بازی میں منظور کیا گیا ایکٹ گورنر راج کی راہ ہموار کر سکتا ہے، نظرثانی کی جائے: سینیٹر کامران مرتضیٰ
جے یو آئی خیبر پختونخوا کے ایکٹ کا آئینی و قانونی جائزہ لے رہی ہے، جلد واضح موقف سامنے لایا جائے گا

مولانا فضل الرحمن اور مولانا عطاء الرحمن کا دورہ سعودی عرب پہلے سے طے شدہ ہے، اسے سیاسی معاملات سے جوڑنا درست نہیں
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) جمعیت علماء اسلام لائرز فورم کے مرکزی صدر و سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے منظور کیا جانے والا ایکٹ جلد بازی میں لایا گیا ہے، جس کے باعث صوبے میں گورنر راج کی راہ ہموار ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے، خیبر پختونخوا حکومت کو اس معاملے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے ایکٹ کے حوالے سے جمعیت علماء اسلام اپنا موقف مرتب کرنے کے لیے قانونی ماہرین سے مشاورت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اس معاملے کے تمام آئینی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، جس کے بعد اس حوالے سے واضح مؤقف سامنے لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ عجلت کے بجائے معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور کرے اور ایکٹ پر نظرثانی کرے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی آئینی یا قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مولانا فضل الرحمن اور مولانا عطاء الرحمن کے سعودی عرب جانے کے حوالے سے کہا کہ دونوں رہنما پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق سعودی عرب گئے ہیں، ان کے دورے کو موجودہ سیاسی معاملات سے جوڑنا درست نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علماء اسلام خیبر پختونخوا حکومت کے ایکٹ کے معاملے پر قانونی ماہرین سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے اور آئینی و قانونی جائزے کے بعد پارٹی اپنا موقف پیش کرے گی۔
