مجھے لگ رہا ہے خیبرپختونخواہ میں واپسی کی حد عبور ہوچکی ہے،منیب فاروق
شاید اب پی ٹی آئی کی طاقتور حکومت نہ بچ سکے، اس کا تعلق لانگ مارچ یاسیاست نہیں ہوگی، بلکہ دہشتگردی کیخلاف قومی سلامتی کا ایجنڈا ہوگا، صحافی منیب فاروق

لاہور(قدرت روزنامہ)صحافی منیب فاروق کا کہنا ہے کہ مجھے لگ رہا ہے خیبرپختونخواہ میں واپسی کی حد عبور ہوچکی ہے، شاید اب پی ٹی آئی کی طاقتور حکومت نہ بچ سکے۔ اپنے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ میری اسیسمنٹ غلط ثابت ہو، لیکن جو مجھے لگ رہا ہے خیبرپختونخواہ میں واپسی کی حد عبور ہوچکی ہے، مزے کی بات اس کا تعلق لانگ مارچ سے نہیں، اس کا تعلق قومی سلامتی اور دہشتگردی سے ہے، اس کا تعلق استعداد کار نہ بڑھانے سے ہے، اس کا تعلق اور چیزوں سے ہے۔
خیبرپختونخوا میں واپسی کی حد عبور ہو چکی ہے اور سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی مضبوط حکومت Casualty بننے جا رہی ہے، معاملہ گورنر راج کی طرف جا رہا ہے اور یہ اب دنوں کی بات ہے، اسکا تعلق لانگ مارچ سے نہیں بلکہ قومی سلامتی اور دہشتگردی سے ہے۔ منیب فاروق pic.twitter.com/ReqtjMkPV0
— Atta ur Rehman Kohistani (@atta__kohistani) September 25, 2026
خیبرپختونخواہ حکومت کا اپنا دفاع ہوگا، کہ ہم یہ یہ سب کررہے ہیں۔ مجھے لگتا تھا کہ گورنرراج ، ایمرجنسی یہ سب نہیں ہونا چاہیئے، اب جو کچھ ہوگا، اس صورتحال کی وجہ امن وامان ہوگا، اس میں لانگ مارچ اور سیاست نہیں ہوگی، اس کے اندر صرف ایک ایجنڈا ہوگا، وہ دہشتگردی کیخلاف قومی سلامتی کا ایجنڈا ہوگا، چند دنوں میں خیبرپختونخواہ کے حوالے سے صورتحال واضح ہوجائے گی، شاید اب خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی طاقتور حکومت نہ بچ سکے۔
وہاں نیا سسٹم کیسا ہوگا، کیسے چلے گا ، اس کا ابھی کچھ پتا نہیں، لیکن سب کچھ آئین میں موجو دہے۔
اسی طرح اینکرپرسن کامران شاہد نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کی 4 اکتوبر تک وزارت اعلیٰ کے قائم رہنے سے متعلق بڑا سوال اٹھا دیا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ یہ بریکنگ پیشرفت ہے، سوال یہ نہیں کہ 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ہوگا یا نہیں؟ بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اہم سوال اب یہ سامنے آ رہا ہے، کہ کیا 4 اکتوبر کو سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہوں گے یا نہیں؟ اسی طرح جیو نیوز کے نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے اینکر پرسن شہزاد اقبال نے کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ لانگ مارچ مئوخر کرنے کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا پی ٹی آئی نے پس پردہ کسی حکومتی یقین دہانی کی وجہ سے ایسا کیا ہے؟ لانگ مارچ کی تیاری کے فقدان کی وجہ سے لانگ مارچ مئوخر کیا جارہا ہے؟
Breaking Development : The question is not whether there will be a Long March on October 4. The real and far more important question now emerge: Will Sohail Afridi still be the Chief Minister on October 4—or not?
— Kamran Shahid (@FrontlineKamran) September 25, 2026
پی ٹی آئی ایک رہنماء نے لانگ مارچ مئوخر ہونے کی تصدیق کی لیکن لانگ مارچ کی تیاری کے فقدان کی تائید نہیں کی۔
۔بلکہ کہا کہ تیاری کا کوئی مسئلہ نہیں چاہتے ہیں ٹیسٹ میچ کھیلیں۔ 5اکتوبر عمران خان کی سالگرہ دن ہے، اس لئے اس دن کی علامتی اہمیت زیادہ ہے، جہاں پی ٹی آئی ٹیسٹ میچ کھیلنے کا ارادہ ظاہر کررہی ہے، وہاں پر ہمارے ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت کچھ اور ہی سوچ رہی ہے،اس حوالے سے مختلف ذرائع سے ہماری بات ہوئی ہے۔
شہزاد اقبال بتا رہے ہیں کہ ہماری باخبر ذرائع سے بات ہوئی ہے ان کے مطابق اب صرف پی ٹی ائی کا لانگ مارچ مسئلہ نہیں ہے لانگ مارچ کرنی ہے تو کریں ملتوی کرنی ہے تو ملتوی کریں اب مسئلہ قومی سلامتی کا ہے سہیل افریدی اور اس کے ساتھی دہشت گردوں سے مل کر پاکستان کو کمزور کر رہے ہیں جس کی… pic.twitter.com/elFDwhqMSf
— محفوظ الرحمن اعوان (@mahfooz51871) September 25, 2026
فیصلہ سازوں کا کہنا ہے کہ اب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مسئلہ نہیں ہے، پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کرنا ہے تو کرے، لانگ مارچ ملتوی کرنا تو کرے، مسئلہ اب آگے بڑھ چکا ہے، مسئلہ اب قومی سلامتی کاہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھی دہشتگردوں سے مل کر پاکستان کو کمزور کررہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشتگردی بڑھ رہی ہے، اس لئے اب فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو جانا ہوگا۔
