میری نظر میں 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے خیبرپختونخواہ حکومت ختم ہوجائے گی، اعجاز الحق
ایمرجنسی لگے یا گورنرراج ، حکومت لانگ مارچ نہیں کرنے دے گی، پی ٹی آئی کو بعد میں بھی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔سربراہ مسلم لیگ ضیاء اعجازالحق

لاہور(قدرت روزنامہ)سربراہ مسلم لیگ ضیاء اعجازالحق کا کہنا ہے کہ میری نظر میں 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے خیبرپختونخواہ حکومت ختم ہوجائے گی۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریلیف کا بھی طریقہ ہوتا ہے دھمکیوں سے ریلیف نہیں دی جاتی، دھمکی آمیز گفتگو اگر کسی وزیر نے بھی کی ہے تو وہ بھی غلط ہے، اگر حکومت نے کی ہے تو وہ بھی غلط ہے، لیکن لانگ مارچ کی ایک حد ہوگی، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں ہوگا، حکومت لانگ مارچ نہیں کرنے دے گی، 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے خیبرپختونخواہ کی حکومت ختم ہوجائے گی، چاہے ایمرجنسی لگے یا گورنرراج لگے،لیکن اس طرح ملک نہیں چل سکتا۔
اس کو خبر سمجھیں یا معلومات سمجھ لیں۔
4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے ہی خیبر پختونخوا حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا،ایمرجنسی یا گورنر راج لگایا جائے گا،اب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 October کو بھی نہیں ہوگا، اعجاز الحق کا Today Tv کے پروگرام Think Pakistan میں بڑا دعوٰی pic.twitter.com/m8N5HZQb7N
— Alia Shabbir (@Aaliashabbir) September 26, 2026
میرا خیال ہے کہ اس کے بعد بھی پی ٹی آئی کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح کی خبر کے حوالے سے صحافی شہزاد اقبال کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کا معاملہ ٹل بھی جائے پھر بھی مقتدرہ فیصلہ کرچکی ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو جانا ہوگا، لیکن معاملہ اتنا آسان نہیں اور نہ ہی یہ اقدام کوئی فوری فائدہ دے گا۔
اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی شہزاد اقبال کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کا معاملہ اگر حل ہوبھی جاتا ہے، تب بھی مقتدرہ فیصلہ کرچکی ہے، جیسا کہ حکومت کے پاس ایک آپشن گورنرراج کا ہے، اگر حکومت گورنر راج لگائے گی تو کیا گورنر راج لگانا آسان ہے؟ گورنر راج بھی 2 ماہ پھر 6ماہ تک توسیع دی جاسکتی ہے۔دوسرا آپشن یہ ہے کہ 9مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملہ ہوا، وہاں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، کہا جارہا ہے کہ اس میں سہیل آفریدی بھی تھے اور ان پر دہشتگردی کا پرچہ بھی ہے۔ اس کیس میں ان کو سزا دے کر نااہل کیا جائے گا اور ان کی جگہ کوئی اور وزیراعلیٰ آجائے گا۔
