’’نکالا گیا تو خطرے ناک ہو جاؤں گا‘‘ کا کےپی ورژن، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی اُن کو دھمکی! غریدہ فاروقی

ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش بھی کر دی، لیکن افسوس! اب وقت آگے بڑھ چکا، سہیل آفریدی کی حکومت، صوبے ہی نہیں قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے، صحافی غریدہ فاروقی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ ’’نکالا گیا تو خطرے ناک ہو جاؤں گا‘‘ کا کےپی ورژن، وزیراعلی خیبرپختونخوا کی اُن کو دھمکی! ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش بھی کر دی، لیکن افسوس! اب وقت آگے بڑھ چکا۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں غریدہ فاروقی نے کہا کہ نکالا گیا تو خطرےناک ہو جاؤں گا، کا کےپی ورژن، مجھے نکالا گیا تو لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے؛ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی “اُن” کو دھمکی! ساتھ ہی وزیراعلی آفریدی کی مذاکرات کی پیشکش/اپیل بھی کر دی۔
سات دن بعد بھی مذاکرات ہی کرنے ہیں تو آج سے مذاکرات شروع کر دیے جائیں۔ لیکن افسوس! اب وقت آگے بڑھ چکا۔ کل سب سے پہلے میں نے ہی خبر دی تھی کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کی حکومت، صوبے ہی نہیں قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے
اور اب آفریدی صاحب کی حکومت زیادہ دیر چلتی نظر نہیں آتی۔
اب پشاور میں صحافیوں سے ملاقات کے ذریعے پیغام رسانی کے بعد بھی وزیراعلی سہیل آفریدی صاحب میری خبر یاددہانی کیلئے دہرا لیں کہ چڑیاں چُگ گئیں گھیت، اب واپسی ممکن نہیں۔
یاد رہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ میں نااہلی کی صورت میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا، لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے، حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی، مجھے عہدے سے ہٹایا گیا یا نااہل کردیا گیا تو متبادل کا نام عمران خان خود طے کریں گے۔ پشاور میں ایوان وزیراعلیٰ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی مکمل تیاری ہے، لانگ مارچ کیلئے بڑی تعداد میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا انتظام کر لیا گیا ہے، اگر کسی قسم کی مہم جوئی ہوئی تو 24 گھنٹوں کی کال پر عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی ممکنہ نااہلی کے حوالے بتایا کہ میں نااہلی کی صورت میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا، لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے، حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی، مجھے عہدے سے ہٹایا گیا یا نااہل کردیا گیا تو متبادل کا نام عمران خان خود طے کریں گے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کے لیے 7 دن کی حتمی مہلت دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا فیصلہ اٹل ہے اور اگر اس دوران حکومت نے کسی ایڈونچر کی کوشش کی تو ورکرز 24 گھنٹے کے اندر باہر نکلنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
پشاور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کا مارچ حکمتِ عملی کے تحت ملتوی کیا گیا، تاہم 4 اکتوبر کو واپسی صرف حقیقی آزادی کے حصول پر ہی ہوگی، اگر وفاقی حکومت افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو 7 دن میں کرلے کیونکہ ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی سے تیسری قوتیں اور سیاسی مہرے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert