جن پانچ سو افراد کو چھوڑایا گیا تھا، وہ آج اپنے گھروں میں ہیں یا دوبارہ دہشت گرد تنظیموں کے پاس چلے گئے ہیں ،معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند كا سردار اختر مینگل سے سوال

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)معاون وزیراعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات شاہد رند نے لاپتہ افراد کے معاملے پر سردار اختر مینگل سے سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بتاسکتے ہیں کہ جن پانچ سو افراد کو چھوڑایا گیا تھا، وہ آج اپنے گھروں میں ہیں یا دوبارہ دہشت گرد تنظیموں کے پاس چلے گئے ہیں نواب اسلم رئیسانی،ڈاکٹر مالک بلوچ اور سردار اخترمینگل کے دورے حکومت میں لاپتہ افراد کے مسلئے پرعملی اقدام اٹھایا گیا تو جواب صفر میں ملے گا
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کر گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ 2008 میں نواب اسلم رئیسانی کی حکومت تھی، وہ ایک قبائلی شخصیت بھی ہیں، اس وقت بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ موجود تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت اس مسئلے کے حل کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے؟
2013 میں قوم پرست جماعتوں کی حکومت تھی اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیراعلیٰ تھے، اس وقت بھی مسنگ پرسنز کا مسئلہ بالکل موجود تھا انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس دور حکومت میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا عملی اقدام اٹھایا گیا؟
انہوں نے کہا کہ 2018 میں سردار اختر مینگل خود لیڈ پوزیشن پر تو نہیں تھے، تاہم ان کی جماعت مرکز اور صوبے میں دامے درمے سوہنے حکومت کا حصہ تھی۔ ان تینوں ادوار میں لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لیے کیا کام کیا گیا؟ اگر نواب اسلم رئیسانی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سردار اختر مینگل نے اس حوالے سے کوئی ایک عملی قدم اٹھایا ہو؟
شاہد رند نے کہا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر ماضی کی حکومتوں کے عملی اقدامات دیکھے جائیں تو جواب صرف صفر میں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج اس مسئلے کو سیاسی طور پر اٹھایا جاتا ہے، تاہم یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ جب ان کے پاس حکومت میں اختیار موجود تھا تو اس وقت اس مسئلے کے حل کے لیے کیا کیا گیاشاہد رند سردار اختر مینگل کی جماعت کے سیکرٹری اطلاعات کے اس دعوے کا بھی حوالہ دیا جس کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے موقع پر پانچ سو افراد کو چھوڑایا گیا تھا اس حوالے سے سردار اختر مینگل اور ان کی جماعت کے ذمہ داران ہمیں بتاسکتے ہیں کہ وہ پانچ سو لوگ آج کہاں ہیں؟ کیا وہ اپنے گھروں میں موجود ہیں یا پھر دوبارہ ان دہشت گردوں کے کیمپوں میں گئے جہاں سے سکیورٹی فورسز نے بڑی مشکل سے انہیں گرفتار کرکے لائے تھے؟
