پسِ زنداں صبر اور امید کی کڑھائی! ڈاکٹر یاسمین راشد کی کشیدہ کاری نے سب کو دنگ کردیا

لاہور (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریکِ انصاف کی اسیر رہنما اور پنجاب کی سابق وزیرِ صحت 76 سالہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے قید و بند کی صعوبتوں کے دوران تکیوں اور صوفے کے کُشنز پر ہاتھ سے خوبصورت اور دلکش کشیدہ کاری کرکے سب کو حیران کردیا۔
سینئر صحافی حمد میر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ کے ساتھ ایک خبر شیئر کی کہ پاکستان کی ممتاز گائناکالوجسٹ اور سیاسی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی 21 ستمبر کو سالگرہ کے موقع پر ان کی اس حیرت انگیز ہنر مندی اور تخلیقی صلاحیت نے سوشل میڈیا پر شدید مقبولیت حاصل کرلی ہے، انہوں نے جیل کی تاریک راہداریوں اور پسِ زنداں میں رہتے ہوئے سوئی اور دھاگے کی مدد سے کپڑوں پر رنگ برنگی کڑھائی کی ہے، جس میں ہاتھی، گھوڑے، پرندے، تتلیاں، پھول اور دلکش بیل بوٹے نمایا نظر آتے ہیں۔
انہوں نے اپنی اس فنکارانہ تخلیق کو “Beyond The Bars” کا عنوان دیا ہے۔
اسیری کے دوران ڈاکٹر یاسمین راشد نے تکیوں اور صوفہ کُشنز پر اپنے ہاتھوں سے مختلف رنگوں کے دھاگوں اور سوئی سے اس قدر خوبصورت کڑھائی کی کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے 76 سالہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے اندر چھپی بہار کو جیل میں آزاد کر دیا اس بہار کے رنگوں اور خوشبو کو اب دنیا کی کوئی…
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) September 26, 2026
ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی اس پیشکش اور فن کے بارے میں جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ تخلیق کسی سٹوڈیو میں نہیں بلکہ پسِ زنداں کی گئی ہے، جہاں کپڑے پر لگا ہر ایک ٹانکا صبر کی علامت اور ہر رنگ امید کی ایک نئی کرن ہے، جب وقت بالکل تھم جائے اور روح خالی محسوس ہو تو تخلیقی کام انسان کو تسکین فراہم کرتا ہے اور انسان کو یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ سخت ترین اور مظلم حالات میں بھی خوبصورتی نمودار ہو کر رہتی ہے۔
