اناؤں سے باہر نکلیں، اس لڑائی میں کوئی فاتح نہیں ہوگا، ریاست مذاکرات کا راستہ کھولے، خواجہ سعد رفیق

لاہور (قدرت روزنامہ) پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملک کی سنگین سیاسی و معاشی صورتِ حال، جاری محاذ آرائی اور متوقع احتجاجی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے اپنی انا، ضد اور دھڑے بندیوں سے بالاتر ہو کر فوری بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کی پرزور اپیل کردی۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک پیغام میں خواجہ سعد رفیق نے حکومت اور احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے سے بات چیت کریں، گفت و شنید کا سلسلہ جاری رکھیں، اگر مسائل حل کرنے کی نیت ہو تو راستہ ضرور نکلتا ہے، اس محاذ آرائی میں کوئی بھی فاتح نہیں ہوگا کیونکہ اس کشمکش میں سب ہار رہے ہیں اور ملک کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، پہل ہمیشہ ریاست کرتی ہے، اس لیے حکومت آگے بڑھے اور پہل کرے۔
آواز ِ دروں —•-—
ایک دوسرے سے بات چیت کریں ،گفت و شنید جاری رکھیں ، مسائل حل کرنے کی نیت ھو تو راستہ ضرور نکلتا ھے
حکومتیں اور احتجاج کرنیوالے اناؤں ، ضدوں اور دھڑے بندیوں سے اوپر اٹھیں ،
یاد رھے آپ میں سے کوئ فاتح نہیں ھو گا کیونکہ سب ھار رھے بیں، پہل ھمیشہ…
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) September 27, 2026
انہوں نے سیاسی قیادت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ جانی و مالی نقصانات سے ہر صورت بچا جائے، ایک دوسرے کی عزتِ نفس کو تار تار کرنا کم ظرفی ہے، کوئی فخریہ کام نہیں ہے، اس وقت پاکستان مہنگائی، بے روزگاری، نا انصافی اور دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا ہے اور کراہ رہا ہے، اس کی پکار کو فوراً سنا جائے، عام آدمی کی زندگی اتنی سخت ہو چکی ہے کہ جینا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے اور اسے سیاسی رہنماؤں کے مباحثوں، الزامات، ملاکھڑوں اور خدمات کا ڈھنڈورا پیٹنے سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔
خواجہ سعد رفیق نے تاریخی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو رستے ہوئے زخم ناسور بن جاتے ہیں اور پھر پوری قوم کو دہائیوں تک اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، تاریخ لکھی جا رہی ہے جسے نہ قید کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی روکا جا سکتا ہے، اور لا علاج زخم چھوڑ کر جانے والے حکمران ہمیشہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے رہتے ہیں، سول سوسائٹی، اہل دل اور اہل درد بیدار ہوں، قومی بیداری اور اذانِ حق کا تسلسل وقت کی شدید ضرورت ہے، جو جہاں بھی ہے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے اپنی آواز بلند کرے۔
