سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کی ملاقات کی اندرونی کہانی

ڈیرہ اسماعیل خان (قدرت روزنامہ) خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور کے درمیان ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی اہم ملاقات کی اندرونی سنسنی خیز کہانی سامنے آ گئی ہے، جس میں خیبرپختونخواہ حکومت کی بقا، وفاق کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کا خطرہ اور حالات بگڑنے پر خیبر پختونخواہ اسمبلی کی تحلیل کے اختیارات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ میں ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی و صوبائی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے علی امین گنڈاپور کو صوبے کے حالات سے آگاہ کیا، دورانِ گفتگو یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا سنجیدگی سے عندیہ دے رہی ہے، اگر صوبائی حکومت بچانی ہے تو فی الحال لانگ مارچ کے الفاظ کا براہِ راست استعمال نہ کرنا ہی سیاسی حکمتِ عملی ہوگی۔
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ آسکتا ہے جس میں علی امین وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں، ذرائع#ARYNews pic.twitter.com/0kiKyS0eyt
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) September 27, 2026
رپورٹ میں بحوالہ ذرائع کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران وفاقی آئینی عدالت کے متوقع فیصلے پر بھی بات ہوئی، جس کے نتیجے میں علی امین گنڈاپور کی دوبارہ بطور وزیراعلیٰ واپسی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، اس پر علی امین گنڈاپور نے اقتدار کی بجائے پارٹی مفادات کو مقدم رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ اگر حالات بالکل بند گلی میں چلے گئے تو پارلیمانی پارٹی کی اجازت سے کے پی اسمبلی توڑنے کا آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے، اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمانی پارٹی اجازت دے تو میں فوراً اسمبلی تحلیل کر سکتا ہوں۔
رپورٹ میں بذریعہ ذرائع مزید انکشاف ہوا کہ دونوں رہنماؤں نے عمران خان کی شدید ناراضی اور غم و غصے پر بھی گفتگو کی، اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران عمران خان نے بشریٰ بی بی، ایک سینیٹر اور اپنی بہنوں کی موجودگی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں پر نام لے کر سخت برہمی کا اظہار کیا اور اسمبلی توڑنے جیسے معاملے پر ان سے براہِ راست مشاورت نہ کرنے پر گلے شکوے کیے تھے۔
