تحریک انصاف کا رولا سوشل میڈیا، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر ہے، سہیل وڑائچ کی رائے
اگر یہی رولا گلیوں بازاروں میں بھی نظر آتا تو اب تک نظام کمزور ہو چکا ہوتا، ’کی بورڈ‘ پر جس پارٹی کا زور و شور ہے وہ سڑکوں پر خوف، دباؤ یا عدم تنظیم کی وجہ سے طاقت دکھانے سے قاصر ہے؛ سینئر صحافی کا کالم

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) معروف کالم نگار اور سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اپنے تاز ترین سیاسی تجزیے میں پاکستان کے موجودہ سیاسی منظرنامے، تحریکِ انصاف کے احتجاج اور حکومت کی ناکہ بندی کا پنجاب کی ثقافتی اصطلاح ’ڈھولا اور رولا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دلچسپ جائزہ لیا ہے۔
اس حوالے سے اپنے کالم میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ اگر لانگ مارچ صرف ملتوی ہوا ہے اور پھر سے ہونے جا رہا ہے تو اصل معاملہ تحریکِ انصاف کے ’ڈھولے‘ یعنی محبوب کا ہے اور سارا رولا بھی اسی لیے ڈالا جا رہا ہے، تحریکِ انصاف کا جس قدر غوغا سوشل میڈیا، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر ہے، اگر اس کا آدھا بھی سڑکوں پر نظر آتا تو اب تک نظام کمزور ہو چکا ہوتا، مگر کی بورڈ پر زور شور دکھانے والی پارٹی سڑکوں پر خوف، دباؤ یا عدمِ تنظیم کی وجہ سے طاقت دکھانے سے قاصر ہے۔
تحریک انصاف کا جس قدر رولا سوشل میڈیا یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر ہے اگر وہی رولا گلیوں بازاروں میں بھی نظر آتا تو اب تک نظام کمزور ہو چکا ہوتا مگر مسئلہ یہ ہے keyboard پر جس پارٹی کا زور شور ہے وُہ سڑکوں پر خوف، دباؤ یا عدم تنظیم کی وجہ سے اپنی طاقت دکھانے سے قاصر ہے۔ دوسری طرف حکومت…
— Suhail Warraich (@suhailswarraich) September 28, 2026
ان کا کہنا ہے کہ دوسری طرف حکومت جس خیالی ڈھولے اور رولے کے خلاف تحرک میں ہے، وہ بھی محض فرضی اور خیالی ہے، تحریکِ انصاف کا دارالحکومت کو جام کر دینے کا تاثر غیر حقیقی ہے، مگر حکومت کی کنٹینرز، کیلوں کی باڑیں اور موٹرویز کی بندش بھی اتنی شدید تھی جیسے ماؤزے تنگ کا چینی لانگ مارچ آ رہا ہو اور کوئی انقلاب آنے والا ہو، حقیقت تو یہ ہے کہ علی امین گنڈاپور کا لانگ مارچ، موجودہ سہیل آفریدی کے مارچ سے زیادہ خطرہ اور خونخوار ثابت ہوا تھا۔
سینئر تجزیہ کار کی رائے ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کو چار سال ہو چکے ہیں لیکن دانشور اور تجربہ کار سیاستدان ابھی تک اس ڈھولے اور رولے کے مسئلے کا کوئی دیرپا حل نہیں نکال سکے، حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے دو پہیے ہیں مگر دونوں فریق اسے ایک ہی پہیے پر چلانا چاہتے ہیں، یک رنگی نظام نہیں چل سکتا، سب رنگی ہی مسئلوں کا حتمی حل ہے لیکن دونوں فریق ایک ہی ذائقے، ایک ہی شکل اور ایک ہی ہیرو کے اندھے پیروکار بن چکے ہیں۔
