بچے شہید ہو رہے ہیں، آپ سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں کہ عمران خان کو کس ہسپتال بھیجنا ہے، عطا تارڑ
نہ اُس کی بیماری کا پتہ، کبھی کہتے ہیں صحتمند ہے، ساتھ کہتے ہیں ہسپتال بھیج دو، تم کون لوگ ہو، کہاں سے آئے ہو، جنگلوں کا بھی دستور ہوتا ہے، اب حد ہوگئی، پانی سر سے گزر چکا؛ وفاقی وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف اور خیبر پختونخواہ حکومت پر سخت ترین حملے کرتے ہوئے انہیں تحریکِ طالبان پاکستان کی بی ٹیم قرار دے دیا اور اعلان کیا ہے کہ اب سکیورٹی و معصوم بچوں کی شہادتوں کے معاملے پر پانی سر سے گزر چکا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب حد ہو چکی ہے اور پانی سر سے اوپر گزر چکا ہے، سرحدوں اور کے پی کے میں ہمارے معصوم بچے شہید ہو رہے ہیں اور آپ پی ٹی آئی اپنے سیاسی کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں کہ عمران خان کو کس ہسپتال منتقل کرنا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ بالکل صحتمند ہیں اور اگلے ہی لمحے کہتے ہیں کہ ہسپتال بھیج دو، تم کون لوگ ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ جنگلوں کا بھی ایک دستور ہوتا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کی افغان پالیسی اور ٹی ٹی پی سے مبینہ تعلقات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں یہ کہنے میں بالکل حق بجانب ہوں کہ یہ تحریکِ انصاف دراصل ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے، انہوں نے گزشتہ ساڑھے 12 سالوں کے دوران خیبر پختونخواہ حکومت میں رہتے ہوئے دہشت گردوں کی کھلم کھلا سہولت کاری کی ہے۔
ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی انتظامی طور پر تو ناکام ہو چکے تھے، لیکن اب وہ سیاسی طور پر بھی ناکام ہو چکے ہیں، کل علی امین گنڈاپور کے پاس گئے، جس کے بارے میں وہ گالم گلوچ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ ہے، آج اس کے پاس اس لیے گئے ہیں کہ ان کی سیاسی ساکھ کمزور ہو چکی ہے اور وہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات نے انگریزی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ Its as clear as that آپ کی جو محبت افغانستان کے ساتھ نظر آ رہی ہے، افغانستان سے گروپس پاکستان میں دہشتگردی کرنے کیلئے آرہے ہیں، دہشتگردی کے واقعات جہاد نہیں، اس کیلئے ان کو ڈالر ملتے ہیں، اب خیبر پختونخواہ حکومت کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا افغانستان کے ساتھ! ریاست پاکستان اب اس دوغلی پالیسی کو مزید کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔
