سرکاری ملازمتوں کی کھلے عام نیلامی اور خرید و فروخت کے الزامات ‘ بلوچستان اسمبلی کی کمیٹی فعال نہ ہوسکی ایک ماہ بعد بھی ارکان کا انتخاب نہ ہونا
محکمہ جنگلات کی بھرتیوں میں بے ضابطگیوں پر ایک ماہ بعد بھی ارکان کا انتخاب نہ ہونا غریب نوجوانوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے

مبینہ بے ضابطگیوں کو رفع دفع کرنے کی کوششیں بند کی جائیں، کمیٹی فوری فعال کر کے ذمے داروں کا تعین کیا جائے: عوامی حلقوں کا مطالبہ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان اسمبلی میں سرکاری ملازمتوں کی مبینہ خرید و فروخت کے معاملے پر تقریبا ایک ماہ قبل تحقیقات کے لیے اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی سربراہی میں کمیٹی کے قیام کے اعلان کے باوجود تاحال کمیٹی کے دیگر ارکان کا انتخاب نہیں ہوسکا، جس کے باعث معاملے پر عملی پیش رفت نہ ہوسکی۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اسمبلی اجلاس کے دوران سرکاری ملازمتوں میں مبینہ خرید و فروخت کے الزامات پر سخت مقف اختیار کیا تھا، جس کے بعد اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے محکمہ جنگلات کی بھرتیوں سمیت دیگر سرکاری بھرتیوں کے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ذرائع نے یو این اے کو بتایا کہ تاحال اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے دفتر سے کمیٹی کے حوالے سے باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، جبکہ کمیٹی کے باقی ارکان کا انتخاب بھی مکمل نہیں ہوسکا، جس کے باعث کمیٹی عملی طور پر فعال نہیں ہو پائی۔واضح رہے کہ محکمہ جنگلات کی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ملازمتوں کی خرید و فروخت کے الزامات پر حکومت کی جانب سے تحقیقات کا حکم بھی دیا جاچکا ہے۔ وزیراعلی سرفراز بگٹی نے بعد ازاں سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت روکنے اور میرٹ یقینی بنانے کے لیے انتظامی سیکرٹریز سے حلف بھی لیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل اور تحقیقات میں تاخیر کے باعث سرکاری ملازمتوں کے حصول کے منتظر نوجوانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق نوجوان اس معاملے کی شفاف تحقیقات، حقائق سامنے آنے اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے منتظر ہیں۔عوامی و نوجوان حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی کو فوری طور پر مکمل اور فعال کیا جائے، سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات مکمل کرکے ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے۔دوسری جانب حکومت یا اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے کو مبینہ طور پر رفع دفع کرنے کے الزام کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
