خیبرپختوخواہ میں گورنر راج نہیں لگ رہا، ایمرجنسی لگانے کا آپشن زیر غور ہے، طارق فضل چوہدری


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہےکہ خیبرپختوخواہ میں گورنر راج نہیں لگ رہا، ایمرجنسی لگانے کا آپشن زیر غور ہے، ایمرجنسی کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا، ایمرجنسی لگی تو صوبائی اسمبلی برقرار رہے گی، صوبے کا چیف ایگریکٹو وفاق کا نمائندہ ہوگا اور وہ گورنر بھی ہوسکتا ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں خراب امن وامان کی وجہ سے شہریوں کی جانیں جارہی ہیں، ان کی جانوں کو محفوظ کیسے بنایا جائے؟ یہ گورنر راج کی جو بات ہورہی ہے ، کوئی گورنر راج نہیں لگ رہا، ایمرجنسی لگی تو اس میں اسمبلی نہیں ٹوٹتی، چیف ایگزیکٹو کا تعین وفاق کرتا ہے۔
لانگ مارچ کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، ہمیں معلوم ہے کہ اب لانگ مارچ نہیں ہو گا۔
کیا آج تک عمران خان نے پوچھا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عوام کے لیے کوئی کام ہوا یا نہیں۔

وزیراعلی وہ لایا جاتا ہے جو سمجھا جاتا ہے کہ پہلے والے سے بڑا ڈریکولا ثابت ہو گا۔ طارق فضل چوہدری: وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ ایمرجنسی کی بات اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ صوبے میں امن وامان کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے کچھ نہیں کیا، وفاقی حکومت اگر کوئی اقدامات اٹھاتی ہے تو صوبائی حکومت اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
خیبر پختونخوا کے پانچ متاثرہ اضلاع میں کوئی کام نہیں ہو رہا بلکہ دہشت گردوں کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔ ایمرجنسی تب لگتی ہے جب بیرونی جارحیت اور اندرونی خلفشار ہو تو صدر پاکستان ایمرجنسی لگا سکتے ہیں۔ طارق فضل چوہدری: وفاقی وزیر پارلیمانی امور
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبر پختو خواہ میں گورنر راج نہیں لگ رہا۔ ایمرجنسی لگانے کا آپشن زیر غور ہے، حتمی فیصلہ کہ ایمرجنسی کب لگے گی ابھی نہیں ہوا۔
ایمرجنسی لگنے کی صورت صوبائی اسمبلی برقرار رہے گی، صوبے کا چیف ایگریکٹو وفاق کا نمائندہ ہو گا جو گورنر بھی ہو سکتا ہے اور اس کا تعلق صوبے سے بھی ہو سکتا ہے۔ رہنماء پی ٹی آئی شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو شکر ہے وفاق کو خیبر پختونخوا صوبہ اور اس کے حالات یاد آ گئے۔ سیکیورٹی اداے، اہلکار، پولیس والے شہید ہو رہے ہیں مگر وزیراعظم پاکستان دس دن سے پاکستان میں نہیں ہیں اور اب بھی لند میں ہیں۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 97 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔۔ یہ صرف خیبر پختونخوا حکومت کی پرفارمینس کی کیسے بات کر سکتے ہیں۔ پوری دنیا میں اپنے وزیراعلی کو دہشت گردوں کا ساتھی قرار دے کر بدنام کر رہے ہیں یہ کیا پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں؟

WhatsApp
Get Alert