’اپریل 2022 میں کہتے تھے کہ عمران خان کی حکومت ختم کر دیں گے تو مسئلے حل ہو جائیں گے‘
آج صورتحال یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے لڑکوں کی حکومت ختم کر دیں گے تو ہمارا مسئلہ حل ہو جائے گا، معذرت کے ساتھ آپ کا مسئلہ حل نہیں ہو گا! عمر دراز گوندل

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تجزیہ کار عمر دراز گوندل نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال کو سمجھنے کے لیے معاملے کا آغاز اپریل 2022 سے کرنا ہوگا، جب عمران خان کی حکومت ختم کی گئی اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس کے بعد ملک کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے عمر دراز گوندل کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی تبدیلی کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے۔
ان کے مطابق اس کے بعد انتخابات کو ایک سال تک مؤخر کیا گیا، جو ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ آئین پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
اپریل 2022 میں کہتے تھے کہ عمران خان کی حکومت ختم کر دیں گے تو مسئلہ حل ہو جائے گا آج صورتحال یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے لڑکوں کی حکومت ختم کر دیں گے تو ہمارا مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن اس کے باوجود آپ کا مسئلہ حل نہیں ہو گا ! عمر دراز گوندل ۔۔ pic.twitter.com/67IVlj0yI4
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) September 29, 2026
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے حکم بھی موجود تھا، تاہم اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
عمر دراز گوندل نے کہا کہ 8 فروری کو عوام کو اپنے ووٹ کے ذریعے رائے دینے کا موقع ملا اور اس روز عوام نے جو فیصلہ کیا، وہ ملکی سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
تجزیہ کار نے موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ اب عمران خان سے آگے بڑھ کر ان کے لڑکوں تک پہنچ گیا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے لڑکوں کی حکومت ختم کر دیں گے تو ہمارا مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن اس کے باوجود آپ کا مسئلہ حل نہیں ہو گا انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کا حل مختلف اقدامات سے نہیں بلکہ عوامی رائے اور سیاسی عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے نکالنا ہوگا۔
