مذاکرات سے گریز نہیں مگر بات چیت سنجیدہ ہو، عمران خان کی رہائی کا فورم عدالت ہے، اعظم نذیر تارڑ
عمران خان کا طبی معائنہ بڑے سینئرز ڈاکٹرز نے کیا، یہ طے کرنا تھا کہ خان صاحب کی زندگی کو کوئی خطرہ تو لاحق نہیں، کوئی کمی بیشی تھی تو وہ عدالتوں کو دیکھنی چاہئے؛ وفاقی وزیر قانون کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا طبی معائنہ مکمل ہو چکا، ان کی ہمشیرہ نے خود تصدیق کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی تمام تر لحاظ سے بالکل صحتمند اور تندرست ہیں، قیدی کی رہائی کا فورم حکومت نہیں بلکہ عدالتیں ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ ملک کے سینئر ترین ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ نے کیا، جس میں یہ طے کرنا تھا کہ ان کی زندگی کو کوئی خطرہ تو لاحق نہیں، عمران خان کی ہمشیرہ جو خود اس میڈیکل بورڈ کے عمل کا حصہ تھیں، انہوں نے خود میڈیا پر آ کر کہا کہ بانی پی ٹی آئی تندرست اور صحتمند ہیں، اگر اب بھی کوئی قانونی کمی بیشی ہے تو وہ معاملہ عدالتوں نے دیکھنا ہے، اسلام آباد پر چڑھائی اور جلسے جلوسوں سے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔
عمران خان کا طبی معائنہ بڑے سینئرز ڈاکٹرز نے کیا، یہ طے کرنا تھا کہ خان صاحب کی زندگی کو کوئی خطرہ تو لاحق نہیں، اُن کی ہمشیرہ نے خود کہا کہ عمران خان صحتمند اور تندرست ہیں، کوئی کمی بیشی تھی تو وہ عدالتوں کو دیکھنی چاہئے، وہ جلسے جلوس سے نہیں ہوگی، اعظم نذیر تارڑ pic.twitter.com/wcDi7Wvnzf
— Umer Inam (@UmerInamPk) September 29, 2026
اعظم نذیر تارڑ نے عام شہریوں سے سوال کیا کہ شہری خود بتائیں کہ تحریکِ انصاف نے جس طرح بار بار دارالحکومت اور پنجاب پر چڑھائی کی، کیا وہ طریقہ درست تھا؟ اگر تحریکِ انصاف کا یہ رویہ ٹھیک ہے تو پھر حکومت کو بھی پرے بیٹھ جانا چاہیے، ملک میں ایک آئینی، قانونی اور عدالتی میکنزم موجود ہے، پارلیمنٹ میں قانون سازی پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے، حکومت سنجیدہ گفتگو اور مذاکرات سے کبھی منکر نہیں رہی لیکن قیدیوں کی رہائی کے فیصلے عدالتوں سے ہوتے ہیں، شہروں کو یرغمال بنا کر اپنے مطالبات نہیں منوائے جا سکتے۔
وکلاء ڈگریوں اور بار کونسل کے الیکشنز کے تنازع پر بات کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے سخت مؤقف اپنایا اور کہا کہ بار کونسلز کے الیکشنز اور وکلاء کا نظام ان کا اپنا اندرونی معاملہ ہے، کسی سیاسی رہنما یا حکومت کو اس پر فتویٰ دینے کا کوئی حق حاصل نہیں، رہی بات ڈگریوں کی تو 2020ء میں میرے سمیت تمام وکلاء کی ڈگریاں پاکستان بار کونسل سے تصدیق شدہ ہیں اور ان کا تمام ریکارڈ موجود ہے، جن لوگوں کے پاس ادھوری معلومات ہیں وہ جا کر ریکارڈ دیکھ لیں اور جنہوں نے غلط الزامات لگائے ہیں وہ یا تو معافی مانگیں یا پھر قانون کے مطابق جرمانہ ادا کریں۔
