بیرسٹر سلمان صفدر نے سہیل آفریدی کیخلاف عمران خان کے پیغام کی تصدیق نہیں کی، منیب فاروق
انہوں نے کہا نورین نیازی ہی بہتر جانتی ہیں، تاہم میں کنفرم کرسکتا ہوں کہ سسٹم سہیل آفریدی اور دو تین مزید لوگوں سے جان چھڑانا چاہتا ہے، سہیل آفریدی کے بچنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہیں؛ اینکرپرسن کا دعویٰ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) تجزیہ کار اور اینکر پرسن منیب فاروق نے خیبر پختونخواہ کی سیاست، نئے صوبوں کی تشکیل اور تحریکِ انصاف کی اندرونی صورتِ حال کے حوالے سے کئی اہم انکشافات کردیئے۔ سینیئر صحافی رؤف کلاسرہ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی سے متعلق پیغام کے بارے میں افواہوں کی حقیقت جاننے کیلئے جب بیرسٹر سلمان صفدر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کی عمران خان سے آخری ملاقات اپریل میں ہوئی تھی اور موجودہ لانگ مارچ سے اس ملاقات کا کوئی تعلق نہیں، اس حوالے سے نورین نیازی ہی بہتر بتا سکتی ہیں کیونکہ ان کی آخری ملاقات ہوئی تھی لیکن وہ خود اس وقت جیل میں موجود ہیں۔
اسی طرح بیرسٹر گوہر سے رابطہ کرنے پر انہوں نے ان خبروں کو بے تکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر علی امین گنڈاپور عمران خان کے ایک پیغام پر عہدہ چھوڑ سکتے ہیں، تو اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایسا کوئی پیغام آتا تو سہیل آفریدی اپنی کرسی پر کیسے برقرار رہ سکتے تھے؟۔
یہ بریکنگ خبر ہضم نہیں ہورہی کہ عمران خان اپنے 35 ممبران کو کہیں گے وہ سہیل آفریدی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں~کیا خان نے پہلے آفریدی کو استحفی کا پیغام بھیجا اور اس نے انکار کیا تو اب عدم اعتماد کی بات ہونے لگی۔ یہ خبریں کون پھیلا رہا ہے؟
سینئر اینکر منیب فاروق نے پوری کہانی… pic.twitter.com/VqgeuboD3u— Rauf Klasra (@KlasraRauf) September 28, 2026
منیب فاروق نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریکِ انصاف کا کام کافی خراب ہے، سہیل آفریدی جب وزیراعلیٰ بنے تھے تو اس وقت بھی طاقتور حلقوں کی جانب سے شدید ناپسندیدگی ظاہر کی گئی تھی، میں کنفرم کرسکتا ہوں کہ سسٹم اب سہیل آفریدی اور کے پی حکومت کے 2 سے 3 دیگر اہم لوگوں سے ہر صورت جان چھڑانا چاہتا ہے کیونکہ ریاست ان کے بیانیے کے ساتھ مزید نہیں چل سکتی، محسن نقوی نے پی ٹی آئی کی اہم شخصیات کو انتہائی واضح الفاظ میں بتا دیا تھا کہ سہیل آفریدی اور ان کے رفقاء اب قابلِ قبول نہیں، سہیل آفریدی کے وزارتِ اعلیٰ پر برقرار رہنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، اس معاملے میں شدید عجلت دیکھی جا رہی ہے۔
میں کنفرم کر سکتا ہوں کہ سسٹم سہیل آفریدی اور دو تین اور لوگوں سے جان چھڑانا چاہتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ معاملہ نہیں چل سکتا اس میں کوئی لمبا عرصہ نہیں لگے گا اس معاملے میں ایک عجلت نظر آتی ہے ! منیب فاروق ۔۔ pic.twitter.com/xtTEAREDL0
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) September 29, 2026
سیاسی و آئینی تبدیلیوں پر گفتگو کرتے ہوئے تزجیہ کار نے کہا کہ ملک میں نیشنل ایمرجنسی کی افواہیں 100 فیصد فیک اور بے بنیاد ہیں، تاہم خیبر پختونخواہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ یقینی دکھائی دے رہا ہے، اس کے علاوہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر کام انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہے اور اسے پانچواں گیئر لگ چکا ہے، اگرچہ آرٹیکل 239 کی شق 4 کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کے بغیر نیا صوبہ نہیں بن سکتا، مگر اب آئینی ترمیم کے ذریعے پہلے آرٹیکل 239(4) کی شرط ہی ختم کی جا سکتی ہے تاکہ نئے صوبوں کے قیام کی راہ میں موجود آئینی رکاوٹ کو ہمیشہ کے لیے فارغ کیا جا سکے۔
