خیبرپختونخواہ میں آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا بالآخر فیصلہ ہوگیا، کامران خان کا دعویٰ
اگر سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کی قیادت غیرمشروط طور پر لانگ مارچ کی کال واپس لے لیں تو پی ٹی آئی حکومت کا تسلسل جاری رہ سکتا ہے؛ سینئر اینکرپرسن کی ایکس پوسٹ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)معروف اینکرپرسن اور سینئر تجزیہ کار کامران خان نے خیبر پختونخواہ کی سیاست اور صوبائی حکومت کے مستقبل سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بالآخر کے پی میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے، تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کو حکومت بچانے کا ایک آخری موقع بھی دے دیا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کامران خان نے لکھا کہ بالآخر فیصلہ ہو گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج لگایا جائے گا، تاہم صوبے میں پی ٹی آئی حکومت کا تسلسل اب بھی جاری رہ سکتا ہے، اگر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت تین اہم شرائط تسلیم کرلے۔
بلاخر فیصلہ ہوگیا ہے خیبر پختون خواہ میں آئین کی آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج لگایا جائے گا ۰ صوبے میں PTI حکومت کا تسلسل جاری رہ سکتا ہے کہ اگر سہیل آفریدی اور PTI قیادت غیر مشروط طور پر لانگ مارچ کی کال واپس لے لیں صوبے میں پولیس کے نظام میں تبدیلی کے مجوزہ قانون سے دستبردار ہو…
— Kamran Khan (@AajKamranKhan) September 29, 2026
کامران خان نے ریاست کی جانب سے رکھی گئی شرائط کی تفصیل بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی حکومت صرف اس صورت میں قائم رہ سکتی ہے اگر سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی قیادت غیر مشروط طور پر 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی کال واپس لے لیں۔
انہوں نے بتایا کہ دوسری شرط کے طور پر صوبے میں پولیس کے نظام میں تبدیلی کے مجوزہ متنازعہ قانون سے وزیراعلیٰ مکمل دستبردار ہو جائیں، تیسرا یہ کہ صوبے میں امن و امان کی ترجیحات وفاقی و ریاستی اداروں کے ساتھ ہم آہنگ کرلیں، اگر یہ تبدیلیاں تسلیم کرلی جائیں تو یہ پی ٹی آئی اور ریاست کے درمیان ایک نئے پرامن سفر کی بنیاد بن سکتی ہے۔
