حیرت کی بات کہ سہیل آفریدی کی حکومت ختم ہو رہی ہے لیکن احتجاج کیلئے ایک بندہ تک سڑکوں پر نہیں نکلا، غریدہ فاروقی

صرف سوشل میڈیا پر احتجاج ہو رہا ہے، لگتا عوام بھی انتظار میں ہیں کہ اب کی بار اُن کیلئے واقعی مثبت تبدیلی آئے۔ صحافی غریدہ فاروقی کا ٹویٹ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) صحافی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ حیرت کی بات کہ سہیل آفریدی کی حکومت ختم ہو رہی ہے لیکن احتجاج کیلئے ایک بندہ تک سڑکوں پر نہیں نکلا، صرف سوشل میڈیا پر احتجاج ہو رہا ہے۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں غریدہ فاروقی نے کہا کہ کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں ہے کہ کئی دنوں سے یہ خبر سامنے آ چکی کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کی حکومت ختم ہو رہی ہے، اس پر مسلسل ڈیبیٹ ہو رہی، لیکن خیبرپختونخوا میں ایک بندہ تک سڑکوں پر نہیں احتجاج یا مذمت کے لیے کئی دنوں سے۔
اُس صوبے میں جہاں حکومت ہے سب سے “مقبول ترین جماعت” کی، کیا وجہ ہوئی؟ صرف سوشل میڈیا پر احتجاج ہو رہا ہے۔ جبکہ وزیراعلی آفریدی نے کہا “مجھے نکالا گیا” تو پورا کےپی سڑکوں پر ہوگا؟ کدھر؟ گویا خیبرپختونخوا کے عوام بھی انتظار میں ہیں کہ اب کی بار اُن کیلئے واقعی مثبت تبدیلی آئے۔
اپنے ایک مزید ٹویٹ میں غریدفاروقی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ اِن ہاؤس تبدیلی؟ کیا سہیل آفریدی کو ہٹا کرتحریکِ انصاف کے اندر سے ہی کوئی نیا چہرہ؟ یا کوئی اور مستقل حل؟ چونکہ آج کل یہ ڈیبیٹ چل ہی رہی ہے، اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ سہیل آفریدی حکومت کے قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن جانے اور حکومت کے خاتمے کی خبر میں نے ہی سب سے پہلے دی؛ لیکن اب اس ڈیبیٹ کا منطقی انجام بھی جان لیجئیے کہ خےبرپختونخوا میں آخر ہو گا کیا؟ گورنر راج لگنے جا رہا ہے؟ ایمرجنسی لگنے جا رہی ہے؟ کیا سہیل آفریدی کی جگہ کوئی اور اِن ہاؤس تبدیلی آئے گی؟ یا کچھ اور ہو گا؟ اوّل تو اس بات کو سمجھ لیجئیے کہ کےپی کے حالات انتہائی خطرناک اور سنگین ہو چکے ہیں۔
گزشتہ 14 سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت لیکن گورننس اور امن و امان مسلسل ناکام ۔۔۔ زیرو گورننس، زیرو ڈویلپمنٹ، صوبے میں جاری دہشت گردی سے نہ صرف مکمل لا تعلقی بلکہ اس کے انسداد میں رخنے ڈالنا، لاء اینڈ آرڈر کا بریک ڈاؤن، ریاستی پالیسی کے خلاف مشکوک افغان دوست پالیسی، غیر قانونی سپیکٹرم کی سر پرستی اور سب سے بڑھ کر خیبر پختونخوا کے بہادر لوگوں کو ریاست کے خلاف مسلسل ابھارنا اور وفاق کے متعلق نفرت پیدا کرنا اور شہیدوں کو مکمل ڈس اون کرنا ۔
۔۔ یہ نہ صرف حکومتی جماعتی پالیسی اور کردار کا خاصہ بن چکے بلکہ ایک ایسا ناسور بن گئے جو قومی سلامتی کو مسلسل شدید نقصان پہنچانے کی وجہ سے ہی ناقابل معافی جرم بن گئے ہیں۔ یہ سب چونکہ تحریکِ انصاف کی جماعتی پالیسی بن چکا ہے اور گزشتہ 14سال کی حکومت اس کا عملی ثبوت ہے، لہذا پی ٹی آئی کے اندر سے ہی کسی اور نئے چہرے کو لے کر آنا، کوئی اِن ہاؤس تبدیلی لانا، یہ مسئلے کا اصل اور مستقل حل نہیں۔
جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اِن ہاؤس تبدیلی پی ٹی آئی کے اندر سے ہی آئے گی وہ غلط کہہ رہے ہیں اور انہیں مسائل کی سنجیدگی کا نہ ادراک ہے نہ سمجھ۔، سو پھر اَب ہو گا کیا۔۔۔؟ اِسی لئے آئین میں دی گئی وہی آپشن زیر غور ہیں جو خیبر پختونخوا کوعرصہ دراز سے جاری مس گورننس، کرپشن، دہشت گردی اور اس سے جڑی لعنتوں سے چھٹکارا دلا سکے۔ ایک ایسا کُلی طور کا نیا اسٹرکچر سامنے آئے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی سرپرستی کرے اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ملکر اس ناسور سے ہمیشہ کے لئے خیبر پختونخوا اور اسکے عوام کی جان چھڑا سکے کیونکہ یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ یہ کام صوبے میں تحریک انصاف کے نظریے کے حامی سہیل آفریدی جیسے لوگ نہیں کر سکتے۔

WhatsApp
Get Alert