خیبرپختونخواہ میں گورنر راج لگائیں یا ایمرجنسی؟ حکومت کا مختلف آپشنز پر غور
صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں اقدامات کو حتمی شکل دیئے جانے کا امکان

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزیراعظم ہاؤس میں ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خیبرپختونخواہ میں سیاسی و سکیورٹی بحران کے مدنظر آئین کے آرٹیکل 233 یعنی ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ سمیت مختلف سخت آئینی آپشنز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
بحوالہ ذرائع جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزراء، قانون دانوں اور سکیورٹی اداروں کے اہم ذمہ داران نے شرکت کی، جہاں خیبر پختونخواہ اور ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا، اجلاس میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی کی موجودہ صورتِ حال پر بریفنگ دی، جبکہ پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے اعلان، خیبر پختونخواہ حکومت کے رویے اور بیک ڈور رابطوں کا باریک بینی سے احاطہ کیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگے گا یا ایمر جنسی؟
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس میں مختلف آپشنز پرغور pic.twitter.com/fN069Lne9Q— Geo News Urdu (@geonews_urdu) September 30, 2026
اجلاس میں وفاقی وزراء نے موئقف اپنایا کہ خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت اپنے سیاسی عزائم کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف ریاستی اداروں کو درکار تعاون فراہم نہیں کر رہی، کے پی کی اس کشیدہ صورتِ حال کے باعث آئین کے آرٹیکل 233 اور 234 کے تحت آئینی اقدامات پر قانونی آراء لی گئیں اور طے پایا کہ وزیراعظم شہباز شریف جلد صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، جس میں خیبر پختونخواہ کے حوالے سے اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
