خیبرپختونخواہ میں گورنر راج لگائیں یا ایمرجنسی؟ حکومت کا مختلف آپشنز پر غور

صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں اقدامات کو حتمی شکل دیئے جانے کا امکان


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزیراعظم ہاؤس میں ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خیبرپختونخواہ میں سیاسی و سکیورٹی بحران کے مدنظر آئین کے آرٹیکل 233 یعنی ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ سمیت مختلف سخت آئینی آپشنز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
بحوالہ ذرائع جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزراء، قانون دانوں اور سکیورٹی اداروں کے اہم ذمہ داران نے شرکت کی، جہاں خیبر پختونخواہ اور ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا، اجلاس میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی کی موجودہ صورتِ حال پر بریفنگ دی، جبکہ پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے اعلان، خیبر پختونخواہ حکومت کے رویے اور بیک ڈور رابطوں کا باریک بینی سے احاطہ کیا گیا۔


اجلاس میں وفاقی وزراء نے موئقف اپنایا کہ خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت اپنے سیاسی عزائم کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف ریاستی اداروں کو درکار تعاون فراہم نہیں کر رہی، کے پی کی اس کشیدہ صورتِ حال کے باعث آئین کے آرٹیکل 233 اور 234 کے تحت آئینی اقدامات پر قانونی آراء لی گئیں اور طے پایا کہ وزیراعظم شہباز شریف جلد صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، جس میں خیبر پختونخواہ کے حوالے سے اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert