اے این پی نے خیبرپختونخواہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کردی

پشاور (قدرت روزنامہ) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخواہ میں وفاق کی جانب سے ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی سخت الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس قسم کے کسی بھی آئین شکن اقدام کی ہرگز حمایت نہیں کریں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخواہ کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتِ حال پر ردِعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ حالات مزید خراب اور کشیدہ ہوں گے۔
ہم سب پاکستان کے ساتھ ہیں، لیکن یہ جو انگلی اٹھا کر کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی حامی ہے، تو مسلم لیگ پی ٹی آئی سے بڑا حامی ہے۔ ایمل ولی خان pic.twitter.com/Oj8jyTipqg
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) September 30, 2026
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے بیانات پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ جو لوگ آج انگلی اٹھا کر کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی حامی ہے، وہ یاد رکھیں کہ مسلم لیگ ن خود پی ٹی آئی سے بھی بڑی دہشت گردوں کی حامی رہی ہے، ملک کو چلانے والوں نے خیبر پختونخوا کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کو نہ آئین کا پتا ہے، نہ روایات کا اور نہ ہی جمہوریت کا کوئی فہم ہے، خیبر پختونخواہ پاکستان سے بھی پرانا خطہ ہے اور ہزاروں سال پرانی تاریخ رکھتا ہے، اسے آپ کیسے تقسیم کر سکتے ہیں؟۔
ایمل ولی خان نے تمام صوبوں کی سیاسی صورتِ حال کا احاطہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر آج ملک میں عام انتخابات کی شفافیت اور قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو صرف خیبر پختونخواہ میں مداخلت کیوں؟ اگر نئے انتخابات کروانے ہیں تو صرف پختونخواہ میں نہیں بلکہ پورے ملک میں فوری طور پر نئے اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔
