گیس کی مسلسل بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی، حکام کی غفلت باعث افسوس ہے: جمعیت علماء اسلام
کوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ فوری ختم اور بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشیداحمد، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد، سیٹھ اجمل بازئی، میر حشمت لہڑی، مفتی رضا خان، حاجی ظفراللہ کاکڑ، میر سرفراز شاہوانی، سالار مولانا علی جان، مولانا سید سعداللہ آغا اور مولانا نقیب اللہ ملاخیل نے کوئٹہ میں جاری گیس لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کی مسلسل بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے گیس حکام کی جانب سے عوام کو درپیش مشکلات کے حل میں غفلت باعث افسوس ہے۔ صبح 9 بجے سے دوپہر اور ظہر سے مغرب تک گیس کی بندش کے باعث گھریلو صارفین کو کھانا پکانے سمیت روزمرہ کے امورِ خانہ داری میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گیس کی غیر یقینی فراہمی اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ شہریوں کے بنیادی مسائل میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ متعلقہ حکام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ گیس شہریوں کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے اس لیے اس کی بلاتعطل اور مناسب پریشر کے ساتھ فراہمی کو یقینی بنانا ان کی ذمہ داری ہے۔ رہنماں نے کہا کہ ہر سال سردیوں کے موسم میں کوئٹہ کے عوام کو گیس لوڈشیڈنگ کم پریشر اور غیر یقینی فراہمی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن گیس حکام مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے عارضی اقدامات اور روایتی یقین دہانیوں تک محدود رہتے ہیں۔ عوام کے صبر کا مزید امتحان لینے کے بجائے متعلقہ حکام اپنی ذمہ داری پوری کریں اور گیس کی فراہمی میں پیدا ہونے والے بحران کے فوری اور مستقل حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے شہری باقاعدگی سے گیس کے بل ادا کرتے ہیں اس کے باوجود انہیں گیس کی فراہمی میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔ گیس حکام عوامی شکایات اور زمینی صورتحال سے چشم پوشی کرنے کے بجائے مثر اقدامات یقینی بنائیں اور صارفین کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم، کم پریشر کا مسئلہ دور اور سردیوں کے دوران گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو ہر سال گیس بحران کا سامنا کروانے کا سلسلہ مزید قابلِ قبول نہیں متعلقہ حکام عوامی مشکلات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے عملی اقدامات کریں۔
