حکومت کی ناقص پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے،چمن اور سبی ریلوے بند کر کے کچلاک ریلوے کھولنے کو ترقی کا نام دیا جا رہا ہے، : سینیٹر مولانا عبدالواسع
بی ڈی اے کا خاتمہ ملازمین کے مستقبل سے کھواڑ ہے، جمعیت علماء اسلام ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑے گی

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ حکومت کی ناقص اور غیر واضح پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے، ایک طرف عوام کے لیے روزگار کے راستے محدود کیے جا رہے ہیں اور دوسری جانب بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (BDA) جیسے اہم ترقیاتی ادارے کو ہی ختم کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں ملازمین کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے۔ بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی صوبے کی ترقی، منصوبہ بندی اور تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے، ایسے ادارے کو بیک قلم جنبش ختم کرنا اور اس سے وابستہ ہزاروں ملازمین کے مستقبل کو داؤ پر لگانا حکومت کی پالیسی اور ترجیحات پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترقیاتی ترجیحات کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چمن۔کوئٹہ اور سبی۔ہرنائی ریلوے سروسز بند کر دی گئی ہیں، جبکہ کچلاک۔سریاب ریلوے کو کھولنے کو ترقی کا نام دیا جا رہا ہے؛ ایسے اقدامات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوام کو بنیادی سفری سہولیات اور موجودہ انفراسٹرکچر کی بحالی فراہم کرنا ترجیح ہے یا محض اعلانات اور نمائشی اقدامات کو ترقی قرار دینا مقصود ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین کے ایک بڑے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ملازمین کے جائز، قانونی اور آئینی حقوق کا مقدمہ ہر فورم پر پوری قوت کے ساتھ لڑے گی اور انہیں کسی صورت بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان پہلے ہی سنگین معاشی اور انتظامی بحران سے دوچار ہے، بارڈر بند ہیں، بین الصوبائی تجارت اور آمدورفت متاثر ہے، اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں ہیں، تاجر برادری پریشان حال ہے، جبکہ زراعت تباہی کا شکار ہے۔ مائنز اینڈ منرلز کا شعبہ ایک طرف الاٹمنٹ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور دوسری جانب امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث معدنی سرگرمیاں، کام اور ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث عوام مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایسے حالات میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے بجائے ایک پورے محکمے کو ختم کر دینا اور اس سے وابستہ ہزاروں ملازمین کو مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دینا حکومت کی منصوبہ بندی اور ترجیحات پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ سینیٹر مولانا عبدالواسع نے واضح کیا کہ ملازمین کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے جمعیت علماء اسلام ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کرے گی اور ان کے حقوق کی جدوجہد میں ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ دریں اثناء انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی جانب سے 9 اکتوبر کو شہیدِ اسلام کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے، جو شہید مولانا محمد حنیف اور جمعیت علماء اسلام کے دیگر شہدائے اسلام کی یاد میں منعقد ہوگی، جس میں شہداء کی دینی، ملی، سیاسی اور جمہوری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔
