گورنر راج لگانے پر ردعمل آئے گا اور بہت سے لوگوں کو بہا کر لے جائے گا، جنید اکبر
کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، ہم تو کہتے ہیں گورنر راج لگاؤ پھر ہم جانیں اور گورنر جانے؛ پی ٹی آئی رہنماء کی وارننگ

پشاور(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریکِ انصاف خیبرپختونخواہ کے صدر اور مرکزی پارٹی رہنما جنید اکبر خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخواہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کے پی حکومت پر شب خون مارا گیا تو ایسا طوفانی ردِعمل آئے گا جو کئی لوگوں کو بہا کر لے جائے گا۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ہم ڈر جائیں گے، گورنر راج لگانے پر ایسا زبردست ری ایکشن آئے گا کہ بہت سے لوگوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا، ہم تو کہتے ہیں کہ لگائیں گورنر راج! پھر ہم جانیں اور گورنر جانے، ایک طرف ہمارے قائد عمران خان پر جعلی اور من گھڑت مقدمات بنائے گئے ہیں اور ان کی بزرگ بہنوں تک کو جیلوں میں قید کر کے رکھا گیا ہے، دوسری طرف ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم لانگ مارچ بھی نہ کریں؟۔
کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، گورنر راج لگانے پر ریکشن آئے گا اور بہت سے لوگوں کو بہا کر لے جائے گا۔ ہم تو کہتے ہیں لگاؤ گورنر راج پھر ہم جانیں اور گورنر جانے۔ ہمارے لیڈر پر جعلی مقدمات ہیں، یہاں تک کے اس کی بزگ بہنوں کو جیل میں قید کیا گیا، پھر کہتے ہیں لانگ مارچ نہ کرو۔ جنید اکبر۔ pic.twitter.com/cTQDEV8ucu
— Ather Kazmi (@2Kazmi) September 30, 2026
عدلیہ کی موجودہ صورتِ حال اور فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ 15ویں نمبر والے جج کو چیف جسٹس بنا کر ہمیں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کا فیصلہ عدالتیں کریں گی اور ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، اس قسم کے فیصلوں کو قوم اور تحریکِ انصاف کسی صورت قبول نہیں کرے گی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی ڈٹ کر کھڑے ہیں اور ان کا تحفظ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اگر کے پی میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ ہوا تو ہم تمام اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دے دیں گے۔
جنید اکبر خان نے پارٹی کے آئندہ کے سخت اور حتمی لائحہ عمل کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم چاہتے ہیں کہ ونس فار آل فیصلہ ہو جائے، انہوں نے ہمیں پھانسی دینی ہے تو دے دیں، یا مارنا ہے تو مار دیں، ہم نے جتنی بار بھی مفاہمت کی کوشش کی انہوں نے ہماری شرافت کو ہماری کمزوری سمجھا، ہمارا ورکر ہم سے شدید ناراض ہے کہ ہم دو سال میں عمران خان کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کرسکے، اب جو ہونا ہے ہو جائے، حکومت جاتی ہے تو جائے، ہم ہر قسم کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر مکمل تیار ہیں۔
