خیبرپختونخواہ میں فوری ایمرجنسی یا گورنر راج نہ لگائے جانے کا امکان
اگر پاکستان تحریک انصاف لانگ مارچ کو منسوخ کردیتی ہے اور سیاسی حکمت عملی تبدیل کرے تو پارٹی اور اس کی قیادت سے متعلق متعدد معاملات حل کیے جا سکتے ہیں؛ انصار عباسی کی خبر

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی حکومت نے خیبرپختونخواہ میں فوری طور پر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کو 4 اکتوبر کا لانگ مارچ منسوخ کرنے اور محاذ آرائی کی سیاست ترک کرنے کا آخری موقع فراہم کردیا۔
بحوالہ باخبر ذرائع انصار عباسی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں خیبر پختونخواہ کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی و سیاسی صورتِ حال اور پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ پر تفصیلی غور کیا گیا، اجلاس میں آئین کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے تمام آپشنز پیش کیے گئے، تاہم حکومت نے اس مرحلے پر کوئی سخت قدم اٹھانے سے گریز کرتے ہوئے آگے بڑھنے سے پہلے پی ٹی آئی کو ایک موقع دینے کی رائے پر اتفاق کیا ہے۔
حکومت کا خیبرپختونخوامیں فوری ایمرجنسی یا گورنر راج سے گریزhttps://t.co/X3yD7KBbJz
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) October 1, 2026
ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی مثبت ردِعمل دیتے ہوئے 4 اکتوبر کا احتجاجی مارچ منسوخ کر دیتی ہے اور سڑکوں کی بندش، اسلام آباد کی طرف پیش قدمی اور ریاستی اداروں کے خلاف جارحانہ بیانیہ روک دیتی ہے تو حکومت کی جانب سے پارٹی قیادت کو اہم سیاسی و انتظامی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
مزید یہ معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کشیدگی میں کمی کی صورت میں عمران خان تک ان کے رہنماؤں کی بہتر رسائی، ضرورت پڑنے پر علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کے امکانات، اور وکلاء، اہل خانہ و قریبی رشتہ داروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کیا جا سکتا ہے، علاوہ ازیں بشریٰ بی بی کو بھی اپنی قانونی ٹیم اور اہل خانہ سے باقاعدہ ملاقاتوں کی سہولت دینے پر غور کیا جائے گا، تاہم اگر پی ٹی آئی نے احتجاج کی راہ چنی تو وفاق سخت آئینی اقدامات اٹھانے میں تاخیر نہیں کرے گا۔
