ایمل ولی خان اور عابد شیر علی کے درمیان لفظی جنگ، سیاسی ماحول گرم ہو گیا

سوشل میڈیا پلیت فارم ایکس پر اے این پی کے مرکزی صدر اور مسلم لیگ ن کے سینیٹر کا خیبرپختونخواہ میں گورنرراج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر ایک دوسرے کو ترکی بہ ترکی جواب


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)خیبر پختونخواہ میں ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ اور سیاسی مداخلت کے معاملے پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر ایمل ولی خان اور مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی جنگ اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کے پی کی سیاسی صورتِ حال پر اے این پی کے سربراہ ایمل ولی خان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخواہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ مکمل طور پر غیر جمہوری عمل ہوگا جس کی اے این پی کسی صورت حمایت نہیں کرے گی۔


انہوں نے مزید کہا کہ اصولوں کی سیاست اور جدوجہد بنا نشستوں کے فارم 47 کی دھاندلی سے بننے والی اکثریت سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، پنجاب سے تعلق رکھنے والی فارم 47 کی پارٹی کو پختونخواہ کے امور میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے، ہم اقتدار میں آئے بغیر بھی حق سچ بولتے رہیں گے اور جو لوگ عوامی ردِعمل کے بعد بھی اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں انہیں کچھ شرم ہونی چاہیے۔
ایمل ولی خان کے اس جارحانہ بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر عابد شیر علی نے لکھا کہ اس معاملے پر فیصلہ ابھی زیرِ التواء ہے، ویسے آپ سے مشورہ مانگا کس نے ہے؟ آپ کی پارٹی محض ایک نشست والی پارٹی ہے اور وہ ایک سیٹ بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی مرہونِ منت اور خیرات ہے۔
عابد شیر علی کے اس طنز پر ایمل ولی خان نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے ایک بار پھر ن لیگ کی حکومتی حیثیت کو چیلنج کیا اور کہا کہ ہماری جدوجہد آئین، سکیورٹی اور وفاق کے لیے ہے اور ہماری نظریاتی سیاست فروخت کے لیے نہیں ہے۔

WhatsApp
Get Alert