پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا کوئٹہ میں علاقائی کانفرنسوں کا اعلان، مضبوط تنظیم ہی قومی اہداف کے حصول میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے، اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ضرورت ہے: نصراللہ خان زیرے


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سینئر سیکریٹری سید عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے اور صوبائی آفس سیکریٹری ندا سنگر نے کہا ہے کہ مضبوط تنظیم اور منظم سیاسی جماعت ہی قومی اہداف کے حصول میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اپنے نظریات، آئین اور منشور پر کاربند رہتے ہوئے پشتونخوا وطن کی ملی وحدت، حقیقی اختیار و خودمختاری، پشتونخوا وطن سے دہشت گردی کے خاتمے، ملک میں محکوم اقوام کے قومی حقوق کے حصول، حقیقی جمہوریت کی بحالی اور فارم 47 کے ذریعے قائم کی گئی ناروا و مسلط شدہ حکومت کے خلاف اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتونخوا نیپ ضلع کوئٹہ کی ماہانہ ضلع کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبائی سیکریٹری اول فقیرخوشحال کاسی، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز، ضلع معاونین، علاقائی سیکریٹریز، سینئر معاونین اور مستقل کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف علاقائی یونٹس کی گزشتہ کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں، جن کا تفصیلی اور تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آئندہ تنظیمی لائحۂ عمل کے حوالے سے مختلف علاقوں میں منعقد ہونے والی علاقائی کانفرنسوں کے شیڈول کا بھی اعلان کیا گیا، جس کے مطابق 2 اکتوبر کو غوث آباد لوڑ کاریز، 8 اکتوبر کو تختانی بائی پاس اول، 9 اکتوبر کو شار، 11 اکتوبر کو نواں کلی، 16 اکتوبر کو شالدرہ، 18 اکتوبر کو وزیر کاسی کاریز اور ہزارگنجی سریاب، 23 اکتوبر کو پشتون آباد، پشتون درہ اور بلیلی، 24 اکتوبر کو سرہ غڑگئی، جبکہ 30 اکتوبر کو محمود مینہ اور کوٹوال کے علاقائی کانفرنسز منعقد ہوں گے۔ اجلاس میں نوحصار، سمنگلی، غبرگ اور افغانیہ خروٹ آباد میں منعقد ہونے والی علاقائی کانفرنسز اور شمولیتی اجتماعات کے کامیاب انعقاد پر متعلقہ پارٹی تنظیموں اور کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی گئی۔مقررین نے کہا کہ پشتونخوانیپ پشتونخوا وطن کی ایک جمہوری، آئینی اور نظریاتی سیاسی جماعت ہے، جس کی جدوجہد ایک سائنسی اور انقلابی سیاسی نظریے پر مبنی ہے۔ پارٹی پشتون عوام کی قومی وحدت کے قیام، ملک میں حقیقی جمہوریت، محکوم اقوام کے قومی حقوق، دہشت گردی کے مکمل خاتمے، افغانستان میں عوام کی منتخب حکومت کے قیام، لویہ جرگہ کے انعقاد اور خواتین سمیت تمام شہریوں کے بنیادی و انسانی حقوق کے احترام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں کے دوران ملک میں اقتدار اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے محکوم اقوام کو سیاسی، معاشی اور قومی حقوق سے محروم رکھا ہے۔ پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور دیگر محکوم اقوام اپنے قومی وسائل، اختیار اور حقوق کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کررہی ہیں، جبکہ اب کشمیری اور گلگتی عوام کی جانب سے بھی اپنے حقوق اور اختیار کے حوالے سے آوازیں بلند ہورہی ہیں۔مقررین نے کہا کہ صوبے میں مائنز اینڈ منرلز سے متعلق قانون سازی اور قیمتی و نایاب معدنی وسائل، بالخصوص ریئر ارتھ منرلز پر اختیار کے معاملات انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور بدامنی نے پشتونخوا وطن کے عوام کو شدید متاثر کیا ہے اور مصنوعی بدامنی کے واقعات نے پورے وطن کو لہو لہان کردیا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پشتونخوا وطن کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر سفر اور عوام کا معمول کی زندگی گزارنا بھی مشکل بنتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ پشتونخوا وطن کی تمام جمہوری و سیاسی قوتیں، بالخصوص پشتون سیاسی جماعتیں، باہمی اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں۔ پشتونخوانیپ کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ اور شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی متعدد مواقع پر تمام سیاسی جماعتوں، بالخصوص پشتون سیاسی قوتوں سے قومی اتحاد اور ایک مشترکہ ملی محاذ کے قیام کی اپیل کرچکے ہیں۔ پارٹی آج بھی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ محکوم اقوام اور پشتون ملت کے سیاسی، قومی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ضرورت ہے۔مقررین نے ضلع قلعہ سیف اللہ میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے وال چاکنگ سمیت پشتونخوانیپ کی وال چاکنگ اور پارٹی پرچموں کو مٹانے کے اقدام کو غیر اخلاقی اور غیر سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات پشتون ملت کے سیاسی و قومی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے متعلقہ عناصر پر زور دیا کہ وہ ایسے غیر سیاسی اور نامناسب اقدامات سے گریز کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پشتونخوانیپ تمام سیاسی جماعتوں اور سیاسی کارکنوں کا احترام کرتی ہے اور توقع رکھتی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں بھی باہمی احترام اور سیاسی رواداری کی روایت کو برقرار رکھیں گی۔اجلاس میں ضلع کوئٹہ کی تنظیمی کارکردگی اور آئندہ کے پروگراموں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ آنے والے دنوں میں پارٹی کے اہم تنظیمی اجلاس اور علاقائی کانفرنسز منعقد ہوں گی، جن کی کامیابی کے لیے ضلع کوئٹہ کو ہمہ جہت تیاری کرنا ہوگی۔ مقررین نے کہا کہ مرکزی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے میں ضلع کوئٹہ کا اہم کردار ہوگا اور اس سلسلے میں تمام علاقائی تنظیموں کو اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔اجلاس میں پشتونخوانیپ میں عوام اور مختلف سیاسی و سماجی طبقات کی جانب سے مسلسل شمولیت کے عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ عوام کی پارٹی میں شمولیت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پارٹی کی جمہوری، قومی اور ترقی پسند سیاست کے لیے عوامی حمایت میں اضافہ ہورہا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تنظیمی فعالیت کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، نئے کارکنوں کو منظم کیا جائے گا اور آنے والی علاقائی و ضلعی کانفرنسز کی کامیابی کے لیے تمام دستیاب تنظیمی صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں گی۔

WhatsApp
Get Alert