مذہبی شدت پسندی اور اندرونی انتشار، بعض عناصر نے قومی مفادات کو ذاتی مقاصد کی بھینٹ چڑھایا: ایچ ڈی پی

افغانستان میں مبینہ جبری بے دخلی اور پناہ گزینوں کی واپسی تشویشناک، حقوق سلب کیے جا رہے ہیں: رہنما


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماں نے دنیا بھر میں آباد ہزارہ قوم کو تیرہویں عالمی یوم یکجہتی ہزارہ قوم کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر نئے دن کے ساتھ ہزارہ قوم کو نئے چیلنجز اور مسائل کا سامنا ہے، اب یہ نئی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے قوم کو علم، ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی جانب آگے لے جانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین عبدالخالق ہزارہ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات قادر نائل، مرکزی آرگنائزنگ سیکرٹری داد چنگیزی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل عصمت یاری، مرکزی کونسل کے ارکان محمد زمان دہقانزادہ، سیما بتول، ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری مرتضی سلطان اور ضلعی صدر ڈاکٹر سخی نے ہزارہ ٹان کے میدان میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور فنی تعلیم کے دور میں نوجوانوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں قابلیت اور اہلیت کو اہمیت حاصل ہے، اس لیے نئی نسل کو جدید تعلیم اور فنی مہارتوں کے حصول پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔پارٹی رہنماں نے کہا کہ ہزارہ قوم طویل عرصے سے مختلف نوعیت کے مسائل اور خطرات کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں ہزارہ قوم کو مبینہ جبری بے دخلی، بنیادی شہری و انسانی حقوق سے محرومی اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ حالات کے باعث ہزارہ اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں افراد مختلف ممالک میں ہجرت اور پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔مقررین نے کہا کہ ہزارہ پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد طویل عرصے سے انڈونیشیا اور دنیا کے مختلف مہاجر کیمپوں میں آباد ہے اور پناہ کی منتظر ہے۔ ان کے مطابق بعض ممالک کی جانب سے مہاجرین کو واپس بھیجے جانے کے اقدامات بھی تشویش کا باعث ہیں، ایسے افراد کی سلامتی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔رہنماں نے کہا کہ ہزارہ قوم کو مذہبی شدت پسندی اور مختلف اندرونی مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض عناصر نے قومی مفادات کو ذاتی یا گروہی مفادات سے جوڑا، جس کے باعث قوم کو متفقہ سمت اختیار کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے نئی نسل اور قومی قیادت پر زور دیا کہ اجتماعی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے اتحاد اور باہمی مشاورت کو فروغ دیا جائے۔پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے مقررین نے اپنے مقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے اور بلوچستان کے مسائل کا حل حقیقی سیاسی، عوامی، قومی اور قبائلی قیادت کی مشاورت سے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مسائل کے حل کے لیے سازگار ماحول میں مذاکراتی عمل شروع کرنے پر زور دیا۔ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جاں بحق ہونے والے ہزارہ افراد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2012 کو دنیا کے 36 سے زائد شہروں میں ہزارہ قوم کی جانب سے کیے گئے پرامن احتجاج کو بھی سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہزارہ قوم آئندہ بھی اتحاد، یکجہتی اور عالمی سطح پر منظم آواز کے ذریعے اپنے مسائل اجاگر کرتی رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert