تعلیمی دفاتر میں یونینز کے غیر قانونی قبضے: سرکاری دعووں پر شکوک، عدالت نے تصویری ثبوت طلب کر لیے
مزاحمت پر ڈپٹی کمشنرز مداخلت کے پابند ہوں گے، بلوچستان ہائی کورٹ کی جامع رپورٹ پیش کرنے کی سخت ہدایت

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عمران الحسینی بنام سیکریٹری تعلیم (اسکولز) بلوچستان و دیگر سے متعلق توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ظہور احمد بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (اسکولز) کوئٹہ میں یونینز اور ایسوسی ایشنز کے نام پر موجود تمام غیر مجاز قابضین کو بے دخل کر دیا گیا ہے اور اس وقت کوئی غیر مجاز شخص مذکورہ عمارت کے احاطے میں قابض نہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے سرکاری مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے عدالت سے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے رپورٹ کے ساتھ تصویری ثبوت بھی پیش کیے جائیں۔ جس پر عدالت نے دونوں فریقین کو یکساں نوعیت کی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ معزز عدالت نے ڈائریکٹر اسکولز ایجوکیشن بلوچستان کو سیکریٹری تعلیم (اسکولز) کی براہِ راست نگرانی میں بلوچستان بھر کے تمام ضلعی تعلیمی دفاتر اور تعلیمی اداروں میں یونینز و ایسوسی ایشنز کے نام پر موجود تمام غیر مجاز قابضین کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ معززعدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر عدالتی حکم پر عملدرآمد کے دوران کسی غیر ضروری یا بلاجواز مزاحمت کا سامنا ہو تو متعلقہ ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کیا جائے، جو عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے ہر قسم کی ضروری معاونت فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔ معزز عدالت نے حکم نامہ کی کاپی اطلاع اور تعمیل کے لیے ایڈیشنل اے جی جنرل افس بھجوانے کی بھی تاکید کی اور کیس کی آئندہ سماعت 3 نومبر 2026 کو مقرر کردی۔
