سیاسی انجینئرنگ اور مصنوعی بندوبست کے تجربات نے بلوچستان کو تباہی کی دلدل میں دھکیلا: عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے والے نمائندے نہیں، مفاد پرست عناصر کی مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے : مولانا عبدالواسع

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے کبھی قوم پرست قوتوں، کبھی مصنوعی طور پر تشکیل دی گئی نوزائیدہ جماعتوں اور کبھی ماضی کے مسترد شدہ سیاسی ٹولے کو اقتدار سونپنے کے تجربات کیے جاتے رہے ہیں، مگر یہ تمام تجربات نہ صرف بری طرح ناکام ہوئے بلکہ ان کے نتیجے میں بلوچستان سیاسی، معاشی اور انتظامی پسماندگی کی مزید دلدل میں دھنس گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائ اسلام بلوچستان کے عوام کی ایک حقیقی اور مقبول سیاسی قوت ہے، جو صوبے کے طول و عرض میں اپنی ماضی کی شاندار کارکردگی، عوامی خدمت کے ریکارڈ اور واضح سیاسی مقدمے کے ساتھ آج بھی پوری استقامت سے سیاسی میدان میں موجود ہے۔ بلوچستان کا نوجوان اضطراب، بے یقینی اور محرومی کی کیفیت سے دوچار ہے، صوبے کی پسماندگی اور بنیادی مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں، مگر ذاتی اور سیاسی مفادات کے اسیر عناصر نے عوامی مسائل پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی بلوچستان کے عوام تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی، بجلی، مواصلات اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں، حالانکہ یہی صوبہ قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع اور انسانی استعداد کے اعتبار سے پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ پر شبِ خون مار کر ایوانِ اقتدار تک پہنچنے والے افراد کسی بھی جمہوری و آئینی مفہوم میں بلوچستان کے حقیقی عوامی نمائندے نہیں ہوسکتے، نہ ہی اہلِ بلوچستان ایسے مصنوعی بندوبست کو اپنا حقیقی مینڈیٹ سمجھتے ہیں۔ بلوچستان کے معروضی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ سیاسی انجینئرنگ، مصنوعی اکثریت اور عوامی مینڈیٹ پر قدغن کے بجائے حقیقی جمہوری عمل کو بحال کیا جائے، عوام کے مستند حقِ رائے دہی کا احترام کیا جائے اور جمعیت علمائ اسلام کا حقیقی عوامی مینڈیٹ واپس کیا جائے تاکہ بلوچستان کو سیاسی استحکام، آئینی بالادستی، معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کی حقیقی سمت پر گامزن کیا جاسکے۔
