جنہوں نے اس سسٹم کو کولیپس کیا وہ اس کو ٹھیک نہیں کرسکتے، خواجہ سعد رفیق
عوام پر اعتماد کرنا پڑے گا، الیکشن میں دھاندلی اور الیکشن کمیشن میں ’مٹی کے باوے‘ بٹھانے کی بجائے مداخلت بند کرنی ہوگی، بار بار عوام کے فیصلوں کی توہین کرکے سانحات سے نہیں بچ سکتے؛ سابق وفاقی وزیر کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک کے حکمران منافقت سے کام لیتے ہیں، ہمیں اصول اس وقت یاد آتے ہیں جب ہمیں جوتے پڑتے ہیں اور جب جوتے پڑنے بند ہو جاتے ہیں تو ہمیں جمہوریت اور اس کے اصول بھی بھول جاتے ہیں۔
ایک تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1956ء کا آئین بنایا گیا اور پھر اسے توڑ دیا گیا، 1973ء کا آئین بنانے والی جماعت نے ہی اس کی بے حرمتی کا ایسا سلسلہ شروع کیا جو آج تک تھم نہیں سکا، آئین میں اگرچہ کچھ ترامیم اچھی بھی تھیں لیکن کئی بری ترامیم کرکے آئین میں بڑی تجاوزات کھڑی کی گئیں، حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کو 1956ء سے پہلے سے لے کر اب تک بغیر آئین کے چلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
جنہوں نے اس سسٹم کو کولیپس کیا ہے وہ اس سسٹم کو ٹھیک نہیں کرسکتے، یہ آپ کو عوام اور قوم پر اعتماد کرنا پڑے گا، مڈل کلاس کے پڑھے لکھے لوگ اسمبلیوں میں آئیں، الیکشن میں دھاندلی اور الیکشن کمیشن میں مٹی کے باوے بٹھانے کے بجائے ،مداخلت بند کرنی ہوگی، خواجہ سعد رفیق#QOM #Pakistan pic.twitter.com/UDOta6NNi0
— QOM Pakistan (@qompakistan) October 3, 2026
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے گھمبیر سکیورٹی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان کے حالات کس نے خراب کیے اور کے پی میں جو کچھ ہو رہا ہے، کیا یہ لشکر سیاست دانوں نے تیار کیے تھے؟ ہم نے تو یہ لشکر تیار نہیں کیے تھے، لیکن آج پوری قوم اس کی قیمت چکانے اور اپنی جانوں کا خراج پیش کرنے پر مجبور ہے، تمام سیاسی جماعتیں تمام حقائق جاننے کے باوجود مصلحت کے تحت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے اس سسٹم کو کولیپس کیا ہے وہ کبھی اس کو ٹھیک نہیں کرسکتے، نظام کی درستگی کے لیے ضروری ہے کہ عوام اور قوم پر بھروسہ کیا جائے، اسمبلیوں میں مڈل کلاس کے پڑھے لکھے لوگوں کو لایا جائے، الیکشن میں دھاندلی کا سلسلہ بند کیا جائے اور الیکشن کمیشن میں ’مٹی کے باوے‘ بٹھانے کی بجائے تمام بیرونی مداخلت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے، عوام کا فیصلہ ماننا ہوگا کیونکہ بار بار عوامی فیصلوں کی توہین کر کے ملک کو کسی بھی بڑے سانحے سے نہیں بچایا جا سکتا۔
