آمرانہ قوتوں نے خود کرپٹ ٹولہ تراشا اور الزام سیاستدانوں پر تھونپا، ملک معاشی طور پر کنگال ہو چکا: پشتونخوا میپ

سرکاری سرپرستی میں وحشت و دہشت گردی جاری، امن کے ادارے پراکسیز کے حوالے کر دیے گئے: سخت تنقید


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک پر مسلط طویل مارشل لاء اور سندھ کے قومی سیاسی جمہوری کارکنوں کی جمہوری آواز کو آمرانہ،قاتلانہ حملوں سے دبانے کے خلاف کوئٹہ میں ایم آر ڈی کی جانب سے 7اکتوبر 1983کواحتجاجی مظاہرے پر گولیاں چلانا جس میں پارٹی کے چار کارکنوں کا کا محمود شہید، اولس یار شہید، داؤد شہید اور رمضان شہید ہوئے اور ڈاکٹر کلیم اللہ، عبدالقہار خان ودان اور تقریباً دو درجن سے زیادہ کارکنوں کے ساتھ اپنے ہی کارکن کے قتل کے جھوٹے بے بنیاد مقدمات میں پابند سلاسل رہے اور پارٹی کے کارکن ڈھائی سال تک مار شل لاء کورٹ میں پیش کرتے رہے اور محمودخان اچکزئی ساڑھے 6سال روپوش رہے۔ اور اسی طرح 11اکتوبر 1991کوشہدا وطن عبدالرحیم کلیوال شہید،صابر شاہ شہید،حبیب الرحمن شہید، صاحب خان شہید اور باز محمد باز شہیدکی شہادت ہوئی تھی۔ پشتونخوامیپ ملک میں آئینی سیاسی جمہوری روایات کی بحالی، ملکی پارلیمنٹ کے اختیارات اورفیڈریشن کے زرین اصول اقتدار میں قوموں کی شراکت کو عملاً تسلیم کرنے، ملک کو سیاسی جمہوری پٹڑی پر ڈالنے، سیاسی استحکام سے مسائل حل کرنے کے اقدامات کے شعار کے تحت شہدا جمہوریت اور شہدا وطن کی برسیوں کے موقع پر 7اکتوبر 2026بروز بدھ کو ژوب شہر میں ضلع شیرانی اور ضلع ژوب کا مشترکہ جلسہ صبح 11بجے منعقد کرنے جارہی ہے۔
جلسہ عام سے ملی مشر پشتونخوامیپ کے محبوب چیئرمین،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور پارٹی کے دیگر مرکزی اور سیاسی قائدین خطاب فرمائینگے۔ ضلع ژوب، ضلع شیرانی کے تمام سیاسی جمہوری وطن دوست عوام سے جلسہ عام میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شروع دن سے آئین بنانے میں رکاوٹیں اور یہاں تک کے 23سال تک ملک کو ایک متفقہ آئین سے محروم رکھا گیا اور پہلا آئین اس وقت بنا جب ملک ٹوٹ گیا تھا۔ 1973کے آئین کو بھی چلنے نہیں دیا گیا اور 1977کو ایک فوجی جنرل نے 1973کے آئین کو پائمال کرتے ہوئے ملک پر ایک مرتبہ پھر ملکی تاریخ کا طویل ترین مارشل لاء مسلط کیا۔ اور جنرل ضیاء الحق کے مار شل لاء میں افغان انقلاب کے خلاف تمام دنیا سے دہشت گرد لائے اور نام نہاد جہاد کے نام پر پاکستانی، معاشرتی مثبت سماجی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئی۔ آئین، جمہوریت، پارلیمنٹ اور فیڈریشن کے ملکی آئینی زرین اصولوں کو پائمال کیاگیا اور چند سال کنٹرول جمہوریت اور من مانے طریقے سے مسلسل 2سالہ، ڈھائی سالہ حکومتوں کو توڑتے رہے اور صرف یہی نہیں انتہائی کرپٹ، رشوت خور، نااہل، غیر سیاسی، غیر جمہوری لیڈر شپ کو آگے لاتے رہے اور ان سے کرپشن کراتے رہے اور ان کے پیدا کردہ کرپٹ لوگوں کا نام لیکر یہ تاثر پیدا کرتے رہے کہ سیاسی لوگ کرپٹ ہیں۔ دراصل سیاسی جمہوری وطن دوست لیڈر شپ کرپٹ نہیں تھیں بلکہ آمرانہ غیر جمہوری قوتوں کی تخلیق کردہ لیڈر شپ سے یہ سب کچھ آمرانہ قوتوں کی کارستانیاں تھیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے بعد تیسری مارشل لاء نے جمہوریت اور جمہوری قوتوں کے سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں جو جمہوری روایات کو فروغ ملا تھا انہیں پائمال کرتے ہوئے ملکی معاشرے کے سیاسی جمہوری روایات کو نہ صرف خاتمہ کیا بلکہ آمریت کو دائمی کرنے کی بنیاد رکھی۔
بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ اس وقت آئین، جمہوریت، پارلیمنٹ اور وفاقیت کے ساتھ جاری سنگین مذاق نے ملک کو سخت ترین اندرونی بحرانوں میں مبتلا کردیا ہے اور سب سے بڑھ کر ملک کو عالمی تنہائی سے دوچار کیا ہے۔ معاشی طور پر ملک کنگال ہوچکا ہے، مہنگائی،بیروزگاری اپنے عروج پر ہے، سرکاری سرپرستی میں وحشت، دہشت کھلے عام جاری ہے، سرکاری پراکسیز کو تھانے اور عوام کو امن دینے ادارے ان کے حوالے کئے جارہے ہیں۔ جس سے تمام ملک میں امن وامان قائم کرنے والے اداروں پر سے عوام کا اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے جو ہر لحاظ سے ملک اور معاشرے کے لیے نیک شگون نہیں۔ پاکستان کے بحرانوں کا حل ملک کے جمہوری صف کے عظیم قائد محمود خان اچکزئی کی مسلسل جدوجہد اور رہنمائی کو قبول کرنے سے ہی ممکن ہے۔ #

WhatsApp
Get Alert