ہمیں کہا گیا اگلے 72 گھنٹوں میں خیبرپختونخواہ کے 5 اضلاع میں ایمرجنسی لگے گی، سلمان اکرم راجہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکرٹری جنرل اور نامور قانون دان سلمان اکرم راجہ نے مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات بتاتے ہوئے سنسنی خیز انکشافات کردیئے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران درحقیقت پی ٹی آئی سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں جو ڈرون حملے ہو رہے ہیں یا لوگ بے گھر ہو رہے ہیں، اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت خود اٹھا لے اور اگلے 72 گھنٹوں کے اندر صوبے کے 5 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرکے فوجی ایکشن لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی رائے پارٹی سے مختلف تھی، بلکہ پوری قیادت ایک پیج پر تھی، حکومت کی منافقانہ پالیسی یہ تھی کہ وہ 72 گھنٹوں میں ایمرجنسی کا نفاذ انگریزی کے مسودے میں لکھوانا چاہتی تھی جبکہ اردو کے مسودے سے اسے نکالنا چاہتی تھی، جو عوام کے ساتھ صریحاً دھوکہ تھا اور پی ٹی آئی یہ مکروہ فریب قبول نہیں کر سکتی تھی۔
ایسا نہیں تھا کہ سہیل آفریدی کی رائے کچھ اور جبکہ ہماری رائے کچھ اور تھی۔ ہمیں کہا گیا کہ 72 گھنٹوں میں ایمرجنسی انگریزی میں لکھ لیتے ہیں جبکہ اردو کے مسودے سے نکال دیتے ہیں یہ تو ٹھیک بات نہیں، ہم عوام کو دھوکا نہیں دے سکتے، سلمان اکرم راجہ https://t.co/KiuZ7wPNy5
— Umer Inam (@UmerInamPk) October 4, 2026
عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے مطالبے پر بات کرنے تک کو تیار نہیں تھی، رات 2 بج کر 40 منٹ پر ہمیں صاف بتا دیا گیا کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جائے گی اور منگل کے روز شیڈول کے مطابق بھی صرف غیر سیاسی لوگوں کو ہی ملنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، اس کے بعد مذاکرات کو جاری رکھنے کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز ہی باقی نہیں رہتا تھا، حکومت نے دہشت گردی کا بیانیہ بعد میں صرف اپنے جواز کے لیے گھڑا ہے۔
سیکیورٹی پالیسی سے متعلق امور پر بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پولیس ایکٹ پر نظرثانی کی جا سکتی تھی اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں بھی کوئی حرج نہیں تھا، لیکن جب آپ اس پر عمل کرنے کے لیے ڈرون حملے کرتے ہیں یا اس نوعیت کے ملٹری آپریشن کرتے ہیں جس سے ہمارے معصوم لوگ بے گھر ہوتے ہیں، تو اس پر کبھی اتفاقِ رائے نہیں ہو سکتا اور ہماری جماعت ان ظالمانہ اقدامات کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔
