حکومتی مذاکراتی ٹیم نے بتایا کہ چار پانچ ہفتے ایسے تھے جب عمران خان کا بلڈ پریشر انتہائی بڑھ گیا تھا، سلمان اکرم راجا


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے بتایا کہ چار پانچ ہفتے ایسے تھے جب عمران خان کا بلڈ پریشر انتہائی بڑھ گیا تھا، مختلف ادویات دینے کے باوجود بلڈ پریشر نارمل نہیں ہورہا تھا، پھر لندن سے اسپیشلسٹ ڈاکٹر کو بلوایا گیا۔
انہوں نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ جب تک ذاتی معالجین عمران خان کی نگہداشت میں شامل نہیں ہوتے ہم اس مطالنے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے، ہمیں کسی بات پر اعتبار نہیں آئے گا، ہم نہیں مانیں گے، ہمیں اس دن بتایا گیا تھا کہ پانچ ہفتے ایسے تھے جب عمران خان کا بلڈ پریشر انتہائی سطح پربڑھ گیا تھا، ادویات کے باوجود نیچے نہیں آرہا تھا، یہ بات ہمیں اس دن مذاکرات کے دوران بتائی گئی کہ ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ تین سے چار ہفتے انتہائی تشویش کے تھے۔
مختلف ادویات دینے کے باوجو دعمران خان کا بلڈ پریشر ٹھیک نہیں ہورہا تھا۔

پھر لندن سے اسپیشلسٹ ڈاکٹر کو بلوایا گیا، ڈاکٹر کے علاج کے بعد رعمران خان کا بلڈ پریشر بحال ہونا شروع ہوا۔ یہ بات ہمیں مذاکراتی ٹیم نے خود بتائی ہے۔یہ بات ایسی ہے کہ چھپی نہیں رہنی چاہیئے تھی لیکن صرف اس لئے چھپی رہی کہ عمران خان سے بہنوں ، وکلاء اور نہ ذاتی معالجین کی ملاقات ہورہی تھی، اس لئے ذاتی معالجین کا معاملہ بنیادی مسئلہ ہے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ حکومت کے وزیر مذاکرات کے حوالے سے غیر اہم باتیں کر رہے ہیں، مذاکرات کے دو دور ہوئے جو بغیر نتیجہ ہی ختم ہوئے، مذاکرات کے پہلے روز ہم اجلاس کے بعد پشاور گئے جہاں ہماری مذاکراتی کمیٹی نے وزیر اعلی اور کابینہ سے ملاقات کرکے دہشت گردی کے معاملے پر بریفنگ لی۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے دو بڑے مطالبات تھے کہ ایک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے، بانی پی ٹی آئی کے بغیر پی ٹی آئی کوئی فیصلہ نہیں کریگی، مذاکرات میں جو ڈیڈ لاک آیا وہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ تھا، ہمارا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے جرگے کو سنا جائے، انہیں رد کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم آج امن جرگہ کی دستاویزات دکھائیں گے جس پر مسلم لیگ (ن)، اے این پی سمیت دیگر جماعتوں کے دستخط موجود ہیں، ہم ہر مسودے پر باری باری بڑھے، محسن نقوی بہت مرتبہ اجلاس چھوڑ کر باہر گئے، رات 8 بجے تک ہم کئی نکات پر متفق ہوگئے لیکن پھر رات 2 بجے معالجین کی بات پر متفق نہ ہوئے، 72گھنٹے والے معاملے پر بھی بات ہوئی۔

WhatsApp
Get Alert