حکومت اگر مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو کل منگل کو عمران خان سے فیملی کی ملاقات کروائی جائے، بیرسٹر گوہرخان

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ حکومت اگر مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو کل منگل کو عمران خان سے فیملی کی ملاقات کروائی جائے، نہ حکومت چھوڑ رہے ،نہ استعفا دے رہے اور نہ ہی اسمبلی تحلیل کررہے۔انہوں نے قمبر سوات میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں سنجیدگی نہیں دکھائی، اب لانگ مارچ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گا، لوگ جنگوں کے دوران میں بات چیت کرتے ہیں، بات چیت کا عمل نہیں رکنا چاہئے، ہمارے مطالبات بڑے واضح ہیں،حکومت اگر مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو کل منگل کا دن ہے، عمران خان سے فیملی کی ملاقات کروائی جائے، فیملی ممبران کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟عمران خان کی بہنوں کو کوٹ لکھپت جیل میں کیوں رکھا گیا ہے؟ہم نہ حکومت چھوڑ رہے ہیں، نہ استعفا دے رہے اور نہ ہی اسمبلی تحلیل کررہے ہیں، اگر غیرآئینی غیرجمہوری اور عوام کی مرضی کے برعکس اقدامات ہوئے ، چاہے وہ گورنر راج ہے یا ایمرجنسی ہے، تو پی ٹی آئی کے 25 سینیٹرز ، 76 ایم این ایز، پنجاب میں 106 ایم پی ایز اور 91 ایم پی ایز خیبرپختونخواہ میں ، ہمارے پاس دوتہائی اکثریت ہے، ہم مجبور ہوجائیں گے کہ ہم مکمل بائیکاٹ کردیں۔
آئی جی پولیس ہمارا، چیف سیکرٹری ہمارا اور احکامات ہمارے ہوں گے۔ ڈی پی اوز اور ڈی سی تعاون نہیں کرتے تو کیا ایسے میں امن وامان کو برقرار رکھا جاسکتا ہے؟ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ حکومت نے سنجیدگی نہیں دکھائی، حکومت مداخلت بند کرے اور خیبرپختونخوا حکومت کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے۔ اگر منتخب ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ساتھ ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر تعاون نہیں کریں گے تو صوبے میں امن و امان کیسے بحال ہوگا؟ دہشت گردی کے خلاف ہماری پالیسی زیرو ٹالرنس کی ہے؛ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
مسائل کا حل مذاکرات ہی میں ہے۔ مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے اور فریقین کو اس وقت تک مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے جب تک کوئی قابلِ عمل حل نہ نکل آئے۔
