اگر عمران خان کو جیل میں کچھ ہوگیا تو نقلی حکومت کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی، مریم ریاض وٹو

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کو جیل میں کچھ ہوگیا تو نقلی حکومت کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی، یہ لوگ اسے بیچ کر کھا رہے ہیں۔ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اگر خان صاحب کو جیل میں کچھ ہو گیا ، تو یہ جو آج نقلی گورنمنٹ والے وزیر و مشیر بنے پھرتے ہیں، وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہی رہیں گے۔
نہ یہ نہ ان کی آنے والی نسلیں،
اور خان کے بغیر پاکستان نہیں بچ سکتا. یہ لوگ اسے بیچ کر کھا رہے ہیں۔ میں کب سے کہہ رہی تھی کہ solitary confinement کی وجہ سے خان صاحب کا بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہو رہا. یہ لوگ کبھی بھی آسانی سے خان صاحب کو نہیں چھوڑیں گے. بس یہ یاد رکھیں۔
اگر خان صاحب کو جیل میں کچھ ہو گیا ، تو یہ جو آج نقلی گورنمنٹ والے وزیر و مشیر بنے پھرتے ہیں، وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہی رہیں گے. نہ یہ نہ ان کی آنے والی نسلیں.
اور خان کے بغیر پاکستان نہیں بچ سکتا. یہ لوگ اسے بیچ کر کھا رہے ہیں.میں کب سے کہہ رہی تھی کہ solitary confinement کی وجہ سے خان صاحب کا بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہو رہا. یہ لوگ کبھی بھی آسانی سے خان صاحب کو نہیں چھوڑیں گے. بس یہ یاد رکھیں.
#خان_کی_سالگرہ_مزاحمت_کے_نام
#اکتوبر5_یوم_عمران_خان #سر_بکف_میدان_میں
#ImranKhanFightingForPakistan— Maryam Riaz Wattoo (@soulful7867) October 5, 2026
یاد رہے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے انکشاف کیا ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے بتایا کہ چار پانچ ہفتے ایسے تھے جب عمران خان کا بلڈ پریشر انتہائی بڑھ گیا تھا، مختلف ادویات دینے کے باوجود بلڈ پریشر نارمل نہیں ہورہا تھا، پھر لندن سے اسپیشلسٹ ڈاکٹر کو بلوایا گیا۔
انہوں نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ جب تک ذاتی معالجین عمران خان کی نگہداشت میں شامل نہیں ہوتے ہم اس مطالنے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے، ہمیں کسی بات پر اعتبار نہیں آئے گا، ہم نہیں مانیں گے، ہمیں اس دن بتایا گیا تھا کہ پانچ ہفتے ایسے تھے جب عمران خان کا بلڈ پریشر انتہائی سطح پربڑھ گیا تھا، ادویات کے باوجود نیچے نہیں آرہا تھا، یہ بات ہمیں اس دن مذاکرات کے دوران بتائی گئی کہ ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ تین سے چار ہفتے انتہائی تشویش کے تھے۔
مختلف ادویات دینے کے باوجو دعمران خان کا بلڈ پریشر ٹھیک نہیں ہورہا تھا۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم نے بتایا کہ چار پانچ ہفتے عمران خان کا بلڈ پریشر انتہائی بڑھ گیا تھا اور دوائیوں سے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا تو لندن سے ڈاکٹر کو خاص طور پر بلایا گیا جسکے علاج سے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں لایا۔ سلمان اکرم راجہ
#PTI #ImranKhan https://t.co/1rb3FvFZ0P— Ali Hassan (@AliJrnlst) October 5, 2026
پھر لندن سے اسپیشلسٹ ڈاکٹر کو بلوایا گیا، ڈاکٹر کے علاج کے بعد رعمران خان کا بلڈ پریشر بحال ہونا شروع ہوا۔ یہ بات ہمیں مذاکراتی ٹیم نے خود بتائی ہے۔یہ بات ایسی ہے کہ چھپی نہیں رہنی چاہیئے تھی لیکن صرف اس لئے چھپی رہی کہ عمران خان سے بہنوں ، وکلاء اور نہ ذاتی معالجین کی ملاقات ہورہی تھی، اس لئے ذاتی معالجین کا معاملہ بنیادی مسئلہ ہے۔
