تحریک انصاف کا لانگ مارچ اٹک سے آگے جا ہی نہیں سکتا، گورنر خیبرپختونخواہ کا چیلنج

20 لاکھ کا مجمع کہاں ہے؟ ان کے پاس لوگ ہی نہیں، صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف جب بھی گورنر راج کا فیصلہ کریں گے، صوبہ اس کو من و عن نافذ کرے گا؛ فیصل کریم کنڈی کی گفتگو


اسلام آباد/پشاور(قدرت روزنامہ)وفاقی حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے امکانات اور گورنر راج کے حوالے سے سیاسی بیانات کا سلسلہ تیز ہوگیا۔ اس حوالے سے گورنر خیبرپختونخواہ فیصل کریم کنڈی نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو جماعت پاکستان کے آئین و قانون کو نہیں مانتی، اس کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ عجیب ہے، اٹک سے آگے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جا ہی نہیں سکتا کیونکہ ان میں اتنی صلاحیت ہی نہیں ہے، اور وہ 20 لاکھ لوگوں کا مجمع جمع کرنے کے دعوے کے برعکس اتنے لوگ بھی نہیں نکال سکیں۔
انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف اب کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ چار فرنچائزز پر مشتمل بن چکی ہے، اور صوبے کا ستیاناس کر دیا گیا ہے جہاں وزیراعلیٰ کا خود اپنے صوبے پر کوئی کنٹرول نہیں اور وہ مراد سعید جیسے بھگوڑے کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں، صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف جب بھی گورنر راج کا فیصلہ کریں گے، صوبہ اس کو من و عن نافذ کرے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہو سکتے ہیں کیونکہ اپوزیشن کے ساتھ رابطے پہلے بھی تھے اور اب بھی جاری ہیں، عسکری قیادت، سیاسی قیادت اور وفاقی حکومت کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ دہشت گردی کی جنگ کو حتمی نتیجے تک پہنچایا جائے گا اور خیبرپختونخواہ حکومت کو اس قومی پالیسی اور آپریشن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائے تو حکومت دوبارہ بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔
اس کے جواب میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اب بال حکومت کے کورٹ میں ہے، ہمارے مطالبات کا باضابطہ ڈرافٹ پہلے ہی حکومت کے پاس موجود ہے، اور اگر حکومت مذاکرات کے حوالے سے واقعی سنجیدہگی کا مظاہرہ کرے گی تو پاکستان تحریک انصاف بھی اس حوالے سے اپنا مثبت ردعمل دے گی۔

WhatsApp
Get Alert