اقتدار کے لیے بنائے گئے مصنوعی اتحاد اور بند کمروں کے فیصلے ملک کو مزید سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحرانوں میں دھکیلیں گے : مولانا عبدالواسع

فارم 45 اور 47 کے تضادات اور سیاسی انجینئرنگ نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا، نمائشی جمہوریت اور مصنوعی سیاسی بندوبست مسترد


مفکرِ اسلام مفتی محمود کی فکر مشعل راہ ہے، عصر حاضر کے فتنوں اور تہذیبی یلغار کا مقابلہ جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم، دلیل اور آئینی جدوجہد سے ممکن ہے
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام صوبہ بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمود کی پوری زندگی دین، آئین، جمہوریت، اسلامی تشخص، قومی خودمختاری اور ختمِ نبوت کے تحفظ کی جدوجہد سے عبارت ہے۔مفکرِ اسلام مفتی محمود کی جدوجہد عصرِ حاضر کے فتنوں کے مقابلے میں رہنمائی کا سرچشمہ ہے، اسلامی نظریات، دینی اقدار اور قومی تشخص کے تحفظ کے لیے آج بھی ان کے افکار مشعلِ راہ ہیں، موجودہ سیاسی بے یقینی اور عوامی اضطراب کی بنیادی وجہ آٹھ فروری کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر شب خون اور جھرلو انتخابات ہیں، انتخابی نتائج کے ساتھ کھلواڑ نے جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے، ملک کو مصنوعی سیاسی بندوبست نہیں بلکہ حقیقی عوامی مینڈیٹ، آئین کی بالادستی اور شفاف جمہوری عمل کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہاکہ مفتی محمود نے اپنے دور کے فتنوں کا نہ صرف علمی اور فکری محاذ پر مقابلہ کیا بلکہ پارلیمان، میدانِ سیاست اور عملی جدوجہد کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ دین اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ اسلامی اقدار کے تحفظ اور معاشرے کی اصلاح کے لیے صالح سیاسی جدوجہد ناگزیر ہے۔ مفتی محمود نے آمریت کے خلاف مزاحمت کی، جمہوری اصولوں کے لیے آواز بلند کی، اسلامی قوانین اور دینی تشخص کے تحفظ کے لیے پارلیمان میں مؤثر کردار ادا کیا اور ختمِ نبوت کے عقیدے کے تحفظ کی تاریخی جدوجہد میں قائدانہ کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ مفتی محمود کی جدوجہد صرف ایک دور کی سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے فکری، تہذیبی، سیاسی اور نظریاتی چیلنجز کے مقابلے کے لیے مکمل رہنمائی ہے۔ آج اسلامی نظریات، دینی اقدار ، حیا، پردہ، اسلامی تہذیب اور قومی تشخص کو کمزور کرنے کے لیے مختلف فکری و نظریاتی رجحانات، مغربی تہذیبی تصورات اور منظم لابیاں سرگرم ہیں۔ نئی نسل کو اپنے دین، تہذیب، تاریخ اور قومی تشخص سے کاٹنے کی کوششیں کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی، ثقافتی، ابلاغی اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک ہمہ گیر فکری یلغار کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔ ایسے حالات میں مفتی محمود کی فکر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ فتنوں کا مقابلہ جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم، دلیل، کردار، آئینی جدوجہد اور منظم سیاسی و دینی کردار سے کیا جاتا ہے۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ آج کفری و استعماری فکر کی یلغار کا ایک بڑا ہدف مسلمانوں کی فکری بنیاد، اسلامی شناخت اور نئی نسل کا ذہنی و تہذیبی تشخص ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو احساسِ کمتری سے نکال کر قرآن و سنت، سیرتِ رسول ، اسلامی تاریخ، اپنے اکابر کی قربانیوں اور پاکستان کے نظریاتی و آئینی تشخص سے جوڑنا ہوگا۔ جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے استفادہ ضرور کیا جائے لیکن اپنی تہذیبی شناخت، دینی اقدار اور اسلامی فکر کی قیمت پر نہیں۔ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جو جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنی نظریاتی بنیادوں سے وابستہ رہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ختمِ نبوت کا عقیدہ ہمارے ایمان، دینی تشخص اور ملی وحدت کا بنیادی ستون ہے۔ مفکرِ اسلام مفتی محمود? نے اس عقیدے کے تحفظ کے لیے جس علمی، سیاسی اور پارلیمانی بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ 1974ء میں ختمِ نبوت کے مسئلے پر قومی اسمبلی میں ہونے والی تاریخی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ جب اہلِ علم دلیل، بصیرت اور آئینی راستے کے ساتھ میدان میں کھڑے ہوں تو بڑے سے بڑا فتنہ بھی علمی محاذ پر شکست سے دوچار ہوسکتا ہے۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کو محض ایک جذباتی مسئلہ بنانے کے بجائے علم، شعور، آئینی تقاضوں اور فکری استدلال کے ساتھ نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔صوبائی امیر نے کہا کہ یومِ اساتذہ کے موقع پر ہم سب سے پہلے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ? کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی تعلیم و تربیت کے لیے معلم بنا کر مبعوث فرمایا۔ نبی کریم نے علم کے ساتھ کردار، اخلاق، عدل، برداشت، انسانیت، ذمہ داری اور تقویٰ کی تربیت فرمائی اور ایک ایسی نسل تیار کی جس نے دنیا کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اس لیے استاد کے لیے سب سے اعلیٰ نمونہ خود رسول اکرم ? کی تعلیم و تربیت کا اسلوب ہے۔انہوں نے کہا کہ استاد صرف کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ قوم کے فکری مستقبل، کردار اور تہذیبی تسلسل کا محافظ ہوتا ہے۔ آج جب نوجوان نسل کو سوشل میڈیا، بے ہنگم معلومات، فکری انتشار اور مختلف تہذیبی تصورات کے سیلاب کا سامنا ہے، اساتذہ، والدین، علمائ￿ اور بالخصوص خواتین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تعلیمی اداروں کو صرف ڈگریاں تقسیم کرنے کے مراکز نہیں بلکہ علم، کردار، تحقیق، دینی شعور، قومی ذمہ داری اور اخلاقی تربیت کے مراکز بنانا ہوگا۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اسلام نے عورت کو عزت، تعلیم اور معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار دیا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور باصلاحیت ماں ایک پوری نسل کی معمار ہوتی ہے۔ آج اسلامی اقدار، حیا، پردہ اور خاندانی نظام کو نشانہ بنانے والی فکری یلغار کا مقابلہ خواتین کو تعلیم سے محروم کرکے نہیں بلکہ انہیں معیاری تعلیم، دینی شعور، اخلاقی تربیت اور باوقار ماحول فراہم کرکے کیا جاسکتا ہے۔ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے اور اگر یہ درسگاہ علم، کردار اور ایمان سے مضبوط ہو تو معاشرہ خود مضبوط ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی بحران بھی دراصل اسی وسیع تر فکری اور جمہوری بحران کا حصہ ہے۔ آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد عوامی مینڈیٹ پر اٹھنے والے سوالات، فارم 45 اور فارم 47 کے تضادات، سیاسی انجینئرنگ اور جھرلو انتخابات کے تاثر نے ملک کے سیاسی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عوام کو مصنوعی بندوبست، نمائشی جمہوریت اور بند کمروں میں کیے گئے سیاسی فیصلے قبول نہیں۔ ملک کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ شفاف انتخابات، حقیقی عوامی مینڈیٹ، آئین کی بالادستی، پارلیمان کے وقار اور اداروں کی آئینی حدود کی پاسداری ہے۔انہوں نے کہا کہ مفکرِ اسلام مفتی محمود? نے ہمیں یہی سیاسی سبق دیا کہ اقتدار مقصد نہیں، اصول مقصد ہیں؛ حکومت منزل نہیں، عوامی خدمت اور اسلامی و جمہوری اقدار کا تحفظ اصل منزل ہے۔ انہوں نے وزارتِ اعلیٰ جیسا منصب اصولوں پر قربان کرکے ثابت کیا کہ سیاستدان کی اصل طاقت کرسی نہیں بلکہ کردار، نظریہ اور اصولوں پر استقامت ہے۔ آج کی سیاست کو اسی اصولی سیاست کی ضرورت ہے، ورنہ اقتدار کے لیے بنائے گئے مصنوعی اتحاد اور مصنوعی سیاسی بندوبست ملک کو مزید سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحرانوں میں دھکیلتے رہیں گے۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مفتی محمودکی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ فتنوں کے دور میں خاموشی اختیار کرنا حل نہیں، بلکہ علم و بصیرت کے ساتھ حق کی گواہی دینا ضروری ہے۔ آج پاکستان کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو نظریاتی طور پر واضح، سیاسی طور پر بااصول، آئینی طور پر ذمہ دار اور عوامی مینڈیٹ کی امین ہو۔ اسلامی تشخص، ختمِ نبوت ، دینی اقدار، قومی خودمختاری، جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی جدوجہد کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ مفکرِ اسلام مفتی محمود کا فکری ورثہ محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ آج کے فکری انتشار، تہذیبی یلغار، سیاسی بے یقینی اور نظریاتی بحران میں مستقبل کا راستہ دکھانے والی روشنی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کے علم، کردار، اصول پسندی، پارلیمانی بصیرت، جمہوری جدوجہد اور تحفظِ ختمِ نبوت کے جذبے کو اپنا کر ملک و قوم کو حقیقی معنوں میں ایک باوقار، خودمختار، آئینی، جمہوری اور اسلامی تشخص رکھنے والی ریاست بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

WhatsApp
Get Alert