پیپلزپارٹی کے گورنر نے ڈرامہ کیا، ایسے احکامات جاری کرنا آئین و جمہوریت پر حملہ ہے، سہیل آفریدی


پشاور (قدرت روزنامہ) خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کی ہے اور گورنر کی جانب سے سکیورٹی اجلاس کی صدارت کو آئین اور جمہوریت پر حملہ قرار دے دیا۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی موجودہ پالیسی نہ تو خیبرپختونخواہ میں مؤثر ہے اور نہ ہی بلوچستان میں ہے، دو تہائی اکثریت والی منتخب حکومت اور کابینہ کی موجودگی میں گورنر کا سکیورٹی اجلاس بلانا انتہائی افسوسناک اور غیر آئینی عمل ہے، آئی جی اور چیف سیکریٹری کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں، ہم ہر حال میں پُرامن رہیں گے اور صرف آئین و قانون کی بات کریں گے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخواہ میں حالات زبردستی خراب کیے گئے ہیں، بلاول کے نانا اور جنرل یحییٰ خان نے پاکستان توڑا تھا، اب بلاول کے والد ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی سازش کر رہے ہیں، ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلزپارٹی کا پرانا وتیرہ رہا ہے، گورنر کی طرف سے اس طرح سکیورٹی اجلاس کی صدارت سے متعلق آئینی حیثیت جاننے کے لیے ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کا رویہ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا رہا ہے، قبائلی اضلاع کے انضمام کے باوجود ان کے مالی حقوق ادا نہیں کیے گئے اور متاثرین کے اربوں روپے کے واجبات اب تک روکے گئے ہیں، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی بیگمات کے پرس کروڑوں روپے کے ہوتے ہیں جبکہ قبائلی عوام کے پورے گھر کے لیے صرف 4 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جو اب تک پورے نہیں ملے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے بے گھر افراد کے لیے 21 ارب روپے فراہم کیے ہیں، کے پی پولیس کے پاس موجود جدید ترین اسلحے کے ساتھ حکومت ہمیشہ اپنے اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے، ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومت کو پوری کرنا پڑتی ہے، وفاق میں فیصلے کرنے والوں کو ان فیصلوں کے نتیجے میں عوام پر پڑنے والی مشکلات کا احساس نہیں، اگر وفاق خیبر پختونخواہ سے مخلص ہے تو صوبے کا این ایف سی شیئر اپ گریڈ کرے، 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے تقریباً سوا ارب روپے کے واجبات ادا کرے۔

WhatsApp
Get Alert